مدعو کا مطالعہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۲
موجودہ دور میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ شریعت میں مداخلت کے نام پر ہنگامہ کھڑا کرتے رہتے ہیں، مگر شریعت کو زمانہ کے اسلوب میں پیش کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتے۔ ہندوستان کے ایک معروف عالم دین نے ایک کتاب شائع کی تھی، اس کا ٹائٹل تھا: ردۃ ولا ابابکر (ایک ارتداد ہے، لیکن اس کے مقابلے کے لیے کوئی ابو بکر نہیں)۔ اس کتاب کے مصنف نے اس نئے دور کو ارتداد کا دور کہا ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لیے عملاً یہ بے خبری کا دور ہے۔ اس زمانے میں مسلمانوں پر شکایت اور نفرت کا ذہن غالب ہے، اس لیے وہ اس دور کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ سائنس کا دور ہے، جس کو قرآن میں آفاق وانفس میں خدائی نشانیوں کے ظہور کا دور کہا گیا ہے (41:53)۔ یہ سائنسی دریافتیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے کتاب الہی میں مذکور کائناتی اشارات کی تفصیل ہیں، اور اسی کے ساتھ اس کی دلیل بھی۔ مگر بے خبری کی بنا پر پوری مسلم کمیونٹی اس دور کو مخالف اسلام دور سمجھ کر اس میں پیدا شدہ مواقع کو اوویل کرنے سے محروم ہو کر رہ گئی۔ حالاں کہ یہ دین کی سائنسی تبیین کا دور ہے۔
مضمون کے ابتدا میں مذکور حدیث کو جب قرآن کی اس آیت کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے تو اس سے گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں شرک کا مقابلہ کرنے کے لیے روایتی اسلوب میں اسلام کی سچائی کو لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ جس سے لوگ فوج در فوج اسلام کی طرف آئے۔ یہی طریقہ الحاد کے مقابلے کے لیے اختیار کیا جانا چاہیے۔ یعنی وقت کے علمی مسلمات سے اسلام کی سچائی کو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے پیش کرنا۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ فتویٰ کا طریقہ اپنا کر لوگوں کو دین سے مزید دور کر دیا جائے۔
راقم الحروف نے گہرے مطالعہ کے بعد اس دور کو پہچانا اور اس تعلق سے بڑے پیمانے پر عصری اسلوب میں جدید مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا لٹریچر تیار کیا ہے۔ 1976ء سے الرسالہ مشن کے تحت منظم طور پر اس نہج پر کام شروع کیا گیا تھا۔ اب سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت اس کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس لٹریچر کو مشن سے وابستہ لوگ اردو، ہندی ، انگریزی اور دوسری زبانوں میں چھاپ کر وسیع پیمانے پر پھیلا رہے ہیں۔ اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues