Al-Risala · September 2024 · page 21

مدعو کا مطالعہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۱

زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ دینی تعلیم کے نظام میں یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہو رہا ہے کہ مذہبی تعلیم کے عمومی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہو رہے ہیں، جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں، اور جدید انسان کے سامنے مؤثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کر سکیں۔ یہ صورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ مدارس کے طلباکو لسانِ عصر سے آگاہ کیا جائے، تاکہ وہ اس قابل بن سکیں کہ وہ جدید ذہن کو ایڈریس کر سکیں۔

دین کو عصری اسلوب میں پیش کرنے کا حکم ہے، مگر مسلمان اس کو صرف اسلوبِ ماضی میں پیش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے ؀ نئی دہلی کے ایک ہال میں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔ اس میں مسلمانوں کے ایک مشہور قائد نے تقریر کی۔ جلسہ میں ہندو صحافی اور دانشور بھی بلائے گئے تھے۔ تقریر کا خاص موضوع اسلامی شریعت تھا۔ ہال میں شاہ بانو کے معاملہ پر مسلمانوں نے جوزور وشور دکھایا ہے، اس کی وجہ سے غیرمسلموں میں شریعت کے بارے میں عمومی طور پر ایک تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ یہ جلسہ 4 مئی 1986 کو ہوا۔ خصوصی مقرر نے پرجوش تقریر کی۔ مگر تقریر میں زیادہ تر اس قسم کی باتیں تھیں کہ شریعت ہم کو جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ ہم کسی قیمت پر شریعت کے اندر مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے، وغیرہ۔

ایک ہندو نے تقریر کے بعد کہا کہ موجودہ دور میں اس قسم کی باتیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ہماری شریعت میں لکھا ہے کہ بہو کو تیل چھڑک کر جلا دو تو کیا آپ اپنی بہو کو جلا دیں گے اور ملک خاموش رہے گا۔ آپ کو اپنے (شرعی) قانون کی معقولیت بتانی ہوگی۔ صرف دعویٰ کافی نہیں ہو سکتا۔

یہی موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام لکھنے اور بولنے والوں کا حال ہے۔ "شتم رسول"، "قرآن کی بے حرمتی"، اور "مداخلت فی الدین" وغیرہ، کے نام پر وہ زبردست جوش دکھائیں گے، مگر دین کی معقولیت ثابت کرنے کے لیے محنت نہیں کریں گے۔ حالانکہ موجودہ زمانہ ہر چیز کو عقلی سطح پر سمجھنے کا زمانہ ہے۔ آج کا آدمی عقل کی سطح پر ہر چیز کو جانچتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page