نئی منصوبہ بندی
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۴
کو استعمال کرتے ہوئے ہر مقصد کو نارمل طریقے سے حاصل کر لیا جائے۔
اسلام ایک مشن ہے، توحید کا مشن۔ قدیم زمانہ میں اس مشن کو جاری کرنے کے لیے سخت رکاوٹیں پیش آئی تھیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ رکاوٹوں کے بغیر اسلام کے مشن کو جاری کیا جائے۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ اسلام کا نام لیتے ہیں اور اسی کے ساتھ جنگ اور تشدد کا طریقہ اختیار کرتے ہیں وہ اپنے اس عمل سے یہ ثبوت دے رہے ہیں کہ دورِ جدید سے پوری طرح بے خبر (unaware) ہیں۔ ان کا کیس جہاد کا کیس نہیں ہے بلکہ بے خبری (unawareness) کا کیس ہے۔
نئی منصوبہ بندی
ری پلاننگ (re-planning) کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے منصوبہ میں تجربات کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سرِ نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میں منظم کر کے از سرِ نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ری پلاننگ ہمیشہ یک طرفہ بنیاد (unilateral base) پر کی جاتی ہے۔ اس لیے ری پلاننگ عملاً ایک قربانی (sacrifice) کا عمل بن جاتا ہے۔ ری پلاننگ کے لیے انسان کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ ردِ عمل (reaction) سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ کسی چیز کو وقار (prestige) کا مسئلہ نہ بنائے۔ وہ پیچھے ہٹنے کو اسی طرح قبول کرے جس طرح وہ اقدام کو قبول کیے ہوئے تھا۔ وہ کامل طور پر بے لاگ انداز میں سوچے اور حقیقتِ واقعہ کی بنیاد پر ایک فیصلہ لے۔ وہ ہار اور جیت کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر اپنی راہ متعین کرے۔
پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں حدیبیہ کا معاہدہ اسی قسم کی ایک ری پلاننگ تھی۔ مگر مسلمان بعد کے زمانے میں اسوۂ رسول کے اس پہلو کو بھول گئے۔ حدیبیہ میں قیام امن کے لیے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینا، باعتبارِ حقیقت ان کو اپنے اقدام کے لیے نیوٹرل (neutral) کرنے کی ایک تدبیر تھی۔ یہ تدبیر مؤثر ثابت ہوئی۔ چنانچہ اس کے بعد بہت کم مدت میں پورا عرب ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) کے ذریعہ اسلام کے زیرِ سایہ آگیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues