Al-Risala · September 2024 · page 25

مجموعہ الفاظ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۵

مجموعہ الفاظ

کچھ مضامین ایسے ہوتے ہیں، جو مجموعہ الفاظ تو ہوتے ہیں، مگر وہ مجموعہ معانی نہیں ہوتے۔ مضمون لکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے غوروفکر کر کے ایک بامعنی تصور اپنے ذہن میں قائم کرے۔ پھر اس کو بامعنی الفاظ میں لکھے۔ ایسا مضمون صرف اس وقت آدمی لکھ سکتا ہے، جب کہ وہ جتنا وقت لکھنے میں لگائے، اس سے زیادہ وقت وہ اس سلسلے میں سوچنے میں لگائے۔ وہ اپنی باتوں کو پہلے سوچ کر ہضم کرے، اور اس کے بعد وہ الفاظ کی صورت میں اس کو بیان کرے۔ ایسا مضمون غوروفکر کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ انسان کو جوٹیک اوے (takeaway) ملتا ہے، وہ اسی قسم کے مضمون سے ملتا ہے۔ بولنے یا لکھنے میں کلیریٹی (clarity) اس وقت آتی ہے، جب کہ آدمی مکمل طور پر غوروفکر سے کام لے۔ ایک حدیثِ رسول ہے : مَن صَمَتَ نَجَا (مسند احمد، حدیث نمبر 6481)۔ یعنی جو خاموش رہا، وہ نجات پا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خاموش رہا، اس نے گہرائی کے ساتھ سوچا، اور جس نے گہرائی کے ساتھ سوچا وہ کامیاب ہوا۔

میں نے ایک تجربہ بار بار کیا ہے، کچھ لوگ بڑے بڑے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ پھر جب وہ واپس آتے ہیں، اور ان سے پوچھا جاتا ہے کہ اجتماع میں شرکت سے آپ کو کیا ملا۔ آپ کا ٹیک اوے کیا تھا۔ تو وہ کوئی خاص بات بتا نہیں پاتے۔ عمومی انداز میں وہ اجتماع کی بات بتا سکتے ہیں، لیکن جب متعین انداز میں پوچھا جائے تو ان کے پاس بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ اس طرح کی مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں کچھ نہیں ملا۔ کوئی قابلِ ذکر بات ان کو اس قسم کے شرکت سے نہیں ملی۔ کوئی وزڈم کی بات انھوں نے نہیں پائی۔

بامعنی تقریر وہ ہے جس کو سن کر آپ کے ذہن میں کچھ نئے خیالات پیدا ہوں۔ آپ کے دماغ میں کوئی حرکت پیدا ہو۔ آپ کو کچھ نئے آئیڈیاز (ideas) سوچنے کو ملیں۔ جب ایسا نہ ہو تو سمجھ لیجیے کہ بولنے والے نے آپ کو الفاظ تو دیے، لیکن کوئی بامعنی (meaningful) بات وہ آپ کو نہ دے سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page