شخصیت کا ڈیولپمنٹ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۶
شخصیت کا ڈیولپمنٹ
کوئی شخص اگر اپنے عمل کا ایک نشانہ بنائے۔ وہ اس کے لیے عمل کرنا شروع کر دے پھر وہ اپنے نشانہ کو پانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ ایک کامیابی ہے۔ مگر وہ ایک چھوٹی کامیابی ہے۔ اس کے برعکس، اگر آدمی اپنے نشانہ کو پانے میں کامیاب نہ رہے تو یہ اس کے لیے زیادہ بڑی کامیابی کا زینہ بن سکتا ہے۔
وہ اس طرح کہ آدمی اگر اپنے نشانہ کو پانے میں کامیاب ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا (end) saturation point) پچوئریشن پوائنٹ) آ گیا ہے۔ یعنی وہ اپنے ترقی کے سفر کے خاتمہ تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ اپنے نشانہ کو پانے میں ناکام رہے تو اس کا سفر رکے گا نہیں۔ اس کا ذہن اپنے لیے نئے آوینیو (avenue) کی تلاش میں لگا رہے گا۔ اس طرح بظاہر ناکام ہونے کے باوجود اس کا عمل برابر جاری رہے گا۔ وہ ایک کے بعد ایک نئی منزل کو پاتا رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے مقرر نشانہ (targeted goal) تک پہنچ جائے گا۔
آدمی اگر اپنے مقرر نشانہ تک پہنچ جائے تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں سرگرمی کا پر اسس رک جاتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ کو جو کچھ پانا تھا میں نے پالیا۔ لیکن اگر آدمی مقرر نشانہ کو پانے میں ناکام رہے تو اس کے اندر ذہنی سرگرمی (intellectual development) کا پر اسس برابر جاری رہے گا۔ پہلے اگر وہ صرف چل رہا تھا تو اب وہ جمپ (jump) کرنا شروع کر دے گا۔ اس کے نتیجہ میں فطری طور پر ایسا ہوگا کہ ایک کے بعد ایک اس کے ذہن کی تمام کھڑکیاں کھل جائیں گی۔ اس کی شخصیت کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے گا جو بند پڑا رہے۔ پہلے اگر وہ مین (man) تھا تو اب وہ سپر مین (superman) بن جائے گا۔ پہلے اگر وہ زیرو تھا تو اب وہ ہیرو بن جائے گا اس طرح فطری عمل کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے لیے ناکامی کا تجربہ پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues