Al-Risala · January 2024 · page 30

سمتِ سفر

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۳۰

اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہتے: صَبْرًا يَا آلَ يَاسِرٍ، فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةُ (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5646)۔ یعنی، آل یاسر صبر کرو، تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔

عمار بن یاسر کی ماں سمیہ کو خود اسی طرح عذاب دے کر انہوں نے مار ڈالا۔ مگر وہ کسی حال میں اسلام کو چھوڑنے پر راضی نہ ہوئیں (فَأَمَّا أُمُّهُ فَقَتَلُوهَا، وَهِيَ تَأْبَى إِلَّا الْإِسْلَامَ) سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 279۔

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ اور عموریہ کے واقعہ کو اس وقت تک سمجھا نہیں جاسکتا جب تک مکہ کے مذکورہ واقعہ کو اس سے ملا کر نہ دیکھا جائے۔ کیا وجہ ہے کہ مدینہ میں جس قسم کے واقعہ پر اقدام کیا گیا، مکہ میں اسی قسم کے شدید تر واقعہ پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مکہ کا زمانہ تیاری اور استحکام کا زمانہ تھا۔ تیاری اور استحکام کے زمانہ میں اقدام غیر مؤثر ہوتا۔ اس لیے مکہ میں صبر کیا گیا۔ صبر دراصل تیاری اور استحکام کی قیمت ہے۔ جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں صبر نہ کریں، وہ بعد کے مرحلہ میں تیاری اور استحکام کے درجہ کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

”مکہ‘‘ میں ناقابل برداشت صبر کیا جاتا ہے، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ ”مدینہ‘‘ میں ناقابل برداشت کو برداشت کرنے کی حاجت نہ رہے۔ جو لوگ مرحلہ تیاری میں صبر اور قربانی کا ثبوت نہ دے سکیں، وہ مرحلہ استحکام کی منزل کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔

یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ صدیوں کے عمل کے نتیجہ میں مسلمان دوبارہ اپنی تاریخ کے آغاز میں پہنچ گئے تھے۔ اب ضرورت تھی کہ دوبارہ ان کے درمیان تیاری کا وہی عمل جاری کیا جائے جو مکہ میں جاری کیا گیا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے اپنے آپ کو تاریخ کے اختتام والے مرحلہ میں فرض کر کے عملی اقدامات شروع کر دیے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ضروری تیاری کے بغیر اقدام پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے لیے بھی مفید نہ ہو سکتا تھا (3:152)، پھر وہ موجودہ مسلمانوں کے لیے کیوں کر مفید ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے جس نے ان کے عملی اقدامات کو بے فائدہ اور غیر مؤثر بنا دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page