Al-Risala · September 2024 · page 32

خوشی کا راز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۲

مطالعہ حدیث شرح مشكاة المصابيح (حدیث نمبر 157-152)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی آواز سنیں جو قرآن کی ایک آیت میں اختلاف کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے۔ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار تھے۔ آپ نے فرمایا کہ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ انھوں نے خدا کی کتاب میں اختلاف کیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2666)۔ تشریح: مسند احمد کی روایت (نمبر 3724) میں ہے کہ ایک مرتبہ دو اصحاب رسول قرآن کی کسی آیت کو لے کر اختلاف کرنے لگے تو آپ نے اس کو ناپسند کیا اور کہا کہ تم دونوں ٹھیک پڑھ رہے ہو، آپس میں اختلاف نہ کرو (کِلا کُما مُحْسِنٌ فَلَا تَخْتَلِفُوا)۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں لازماً ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیدا ہوں ۔ ایک اور دوسرے کے درمیان مختلف اعتبار سے اتنا زیادہ فرق پایا جاتا ہے کہ ہر انسان کو مسٹر ڈفرنس کہنا صحیح ہوگا۔ اس دنیا میں ہر سماج فرق و اختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق و اختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے، نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔ فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملے سے بھی ہے اور سیکولر معاملے سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام، مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق و اختلاف کو مٹانا نزاع پیدا کرتا ہے اور فرق و اختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انسان سے قرآن میں تدبر مطلوب ہے (ص، 29: قرآن میں اختلاف

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page