خوشی کا راز
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۳
مطلوب نہیں ۔ تدبر یہ ہے کہ استفادے کی نیت سے قرآن کی آیتوں میں غور و فکر کیا جائے۔ اس کے برعکس، اختلاف یہ ہے کہ قرآن کی آیتوں میں غیر ضروری بحثیں نکالی جائیں، اور رائے کے اختلاف (فرق) کو اختلافِ نزاع تک پہنچایا جائے۔
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سب سے بڑا مجرم وہ ہے جو ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرے جو لوگوں کے اوپر حرام نہیں کی گئی تھی۔ پھر اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام کر دی گئی۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7289، صحیح مسلم، حدیث نمبر (2358)
اس حدیث کی وضاحت قرآن کی ایک آیت سے ہوتی ہے۔ وہ آیت یہ ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ (5:101) یعنی، اے ایمان والو، ایسی باتوں کے متعلق سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو وہ تم کو گراں گزریں۔ مذکورہ آیت اور حدیث کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سا سوال ہے جو اسلام میں ناپسند کیا گیا ہے۔ یعنی وہ سوال جس سے ایک انسان کے لیے آسانی کا راستہ کھلنے کے بجائے مشقت پیدا ہو جائے۔ اس قسم کے غیر ضروری سوالات میں پڑنے کی ممانعت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھی وہی آج بھی مطلوب ہے۔ آج بھی صحیح طریقہ یہ ہے کہ جو حکم جس طرح دیا گیا ہے اس کو اسی طرح رہنے دیا جائے۔ غیر ضروری سوالات قائم کر کے اس کی حدود و قیود کو بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس سے انسان مشکلوں میں پڑ جاتا ہے۔ آسان طریقہ وہ ہے جو مسئلے کو مسئلے تک محدود رکھے۔ اس کے مقابلے میں مشکل طریقہ وہ ہے جو اصل مسئلہ میں دوسرے مسئلے کا اضافہ کر دے۔ دین کی اصل روح اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر ہے۔ مگر بعد کے زمانہ میں جب اندرونی روح سرد پڑتی ہے تو ظواہر کا زور بہت بڑھ جاتا ہے۔ اب غیر ضروری موشگافیاں کر کے نئے نئے مسائل بنائے جاتے ہیں۔ پچھلے زمانے میں یہود کا یہی حال ہوا تھا۔ انھوں نے خدا کے دین کے نام پر ظاہری مسائل کی جکڑ بندیوں سے ایک خود ساختہ ڈھانچہ بنا لیا تھا اور اس کو خدا کا دین سمجھتے تھے۔ پیغمبر اسلام نے ان
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues