Al-Risala · September 2024 · page 36

خوشی کا راز

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۶

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے پہلے جس نبی کو بھی اللہ نے اس کی امت میں بھیجا تو اس کی امت میں سے کچھ لوگ اس کے حواری ہوئے۔ اور ایسے اصحاب ہوئے جو رسول کی سنت کو لیتے تھے اور ان کے حکم کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ان کے ناخلف پیدا ہوئے، وہ ایسی بات کہتے تھے جس کو وہ خود نہ کرتے تھے ۔ اور وہ ایسے کام کرتے تھے جس کا انھیں حکم نہیں ملاتھا۔ پس جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنی زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔ اور جو ایسے لوگوں کے ساتھ اپنے دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے۔ اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا کوئی درجہ نہیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 50)

تشریح: اس حدیث میں ایک فطری قانون کا ذکر ہے جو ہر نبی کی امت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ہر نبی کی امت کی پہلی نسل ان افراد پر مشتمل ہوتی ہے جو شعوری انقلاب کے تحت نبی کے ساتھی بنتے ہیں۔ مگر امت کی بعد کی نسلوں کا معاملہ اس سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ لوگ شعوری انقلاب کے بغیر صرف پیدائشی تعلق کی بنا پر امت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ بعد کے لوگوں میں وہ زندہ عقیدہ اور اعلیٰ کردار باقی نہیں رہتا جو امت کے ابتدائی لوگوں میں تھا۔

جب کوئی امت زوال کے اس دور میں پہنچ جائے تو اس وقت ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کو از سرِ نو زندہ ایمان پر کھڑا کیا جائے۔ یہ اصلاحی کام امت کے ان افراد کو کرنا ہوتا ہے جو دین کا گہرا علم رکھتے ہوں۔ ان افراد پر یہ فرض ہو جاتا ہے کہ وہ احیاء اور اصلاح کے اس عمل میں اپنی ساری طاقت لگائیں۔ اگر وہ عملی اعتبار سے یہ جدوجہد کر سکتے ہیں تو وہ عملی اعتبار سے اس کی کوشش کریں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان پر فرض ہے کہ وہ زبان سے امر حق کا اعلان کریں۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو وہ امت کی اصلاح کے لیے تڑپیں اور اس کے لیے دعائیں کریں۔ اگر یہ تیسری چیز بھی نہ پائی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان کی آخری علامت بھی لوگوں میں باقی نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page