خوشی کا راز
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۵
تشریح: حدیث کی یہ بات عام مسلمانوں کی نسبت سے ہے۔ عام مسلمان جو علمی تجزیے اور تحقیق کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں ان کو اس طرح کے معاملے میں ایسا ہی رویہ اختیار کرنا چاہیے مگر جہاں تک اہل علم کا تعلق ہے وہ دینی مقاصد کے تحت قدیم صحیفوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جس بات کو سنے اس کو بیان کرنے لگے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 505) تشریح: جھوٹ یہ ہے کہ آدمی ایک ایسی بات کہے جو واقعہ کے خلاف ہو۔ سنی ہوئی بات کا معاملہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہی ہے۔ سننا بذات خود کوئی درست ذریعہ علم نہیں۔ کسی کے خلاف سنی ہوئی ایک بات اس وقت تک غیر معتبر ہے جب تک کہ وہ تحقیقی ذرائع سے ثابت نہ ہو جائے۔ ایسی حالت میں کسی کے خلاف ایک بری خبر کو سن کر اس کو بیان کرنا غیر مصدقہ بات کو دہرانا ہے۔ اور غیر مصدقہ بات اور خلاف واقعہ بات کے درمیان اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
اس حدیث رسول میں بات کے غیر مطلوب طریقے کو بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بات کا مطلوب طریقہ کیا ہے۔ یہ مطلوب طریقہ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی سورہ الحجرات میں یہ اصول اس طرح بیان کیا گیا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6)۔ یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتاناپڑے۔
قرآن کی اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بات کو سننے کے بعد اس کو اسی طرح بیان نہ کیا جائے، بلکہ پہلے اس کی تبین کی جائے۔ تبین کا مطلب مکمل تحقیق (thoroughly inquiry) ہے ۔ بات کو سن کر اسی طرح لوگوں سے بیان کرنا، جھوٹے آدمی کی پہچان ہے، اور بات کو سننے کے بعد، اس کی مکمل تحقیق کرنا، سچے آدمی کی پہچان ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues