Al-Risala · September 2024 · page 42

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۲

ایک انٹرویو

(زیر نظر انٹرویو مولانا وحید الدین خاں صاحب سے ستمبر 1991 میں "زندگی" لاہور کے نمائندہ اصغر عبداللہ نے لیا تھا۔ ماہنامہ تذکیر لاہور کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے) سوال: مولانا قارئین "زندگی" کو اپنے سفر زندگی کا احوال سنائیں۔

جواب: میں 1925 میں اعظم گڑھ میں پیدا ہوا۔ ہمارا گھرانہ مذہبی گھرانہ تھا۔ ابتدائی تعلیم ایک دینی مدرسے میں حاصل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد تلاش حق کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں نے یکسوئی سے مطالعہ شروع کر دیا۔ جس سے اسلام پر از سر نو میرا یقین بحال ہوا۔ یہ یقین مدرسے میں حاصل نہ ہوا تھا۔ مطالعے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسلام کو عصر حاضر میں علم جدید کا چیلنج درپیش ہے اور دور حاضر میں جسے دعوت اسلام کا کام کرنا ہے، اس کے لیے علم جدید پر عبور حاصل کرنا لازم ہے۔ مدرسے میں، میں نے عربی زبان پڑھی تھی۔ اب انگریزی زبان سیکھنے کا شوق ہوا۔ قریب قریب 20 سال میرے اوپر ایسے گزرے کہ میں نے انگریزی کے سوا کچھ نہ پڑھا۔ انگریزی میں ہی غرق رہا۔ اس طرح جدید علوم تک میری رسائی ہوئی۔ "اسلام اور عصر حاضر" میرا خصوصی موضوع بن گیا۔ سوال: اس کے علاوہ آپ نے کن کن موضوعات کو مطالعے کا ہدف بنایا؟

جواب: جو کچھ ملا، پڑھ لیا۔ کسی ایک مضمون پر توجہ مرکوز نہیں کی۔ مثلاً میں نے یہ طے کیا کہ انگریزی اخبار ہی پڑھوں گا۔ ابتدا میں کچھ سمجھ میں آتا، کچھ نہ آتا۔ لیکن پھر رواں ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے لائبریریوں کا رخ کیا اور ان کو کھنگال ڈالا۔ کئی ایسی لائبریریاں بھی تھیں کہ کتابوں پر گرد جمی ہوئی تھی۔ شاید میں نے ہی ان کو پہلی مرتبہ کھول کر پڑھا۔ فلسفہ، سائنس، معاشرت، معیشت جس موضوع پر جو کچھ ملا، پڑھ ڈالا۔

سوال: آپ نے دینی تعلیم کے علاوہ دوسری تعلیم کہاں حاصل کی؟

جواب: دینی تعلیم ہی میں نے باقاعدہ حاصل کی، اس کے علاوہ ذاتی مطالعہ کیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page