Al-Risala · September 2024 · page 43

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۳

سوال: جماعت اسلامی سے وابستگی کب اختیار کی؟

جواب: نو جوانی میں ہی جماعت اسلامی سے قربت پیدا ہوئی۔ بعد ازاں میں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی۔ تقریباً پندرہ برس اس جماعت سے وابستہ رہا۔ 1957 کے لگ بھگ مجھے جماعت اسلامی سے فکری اختلاف پیدا ہوا۔ میں نے مطالعہ جاری رکھا، جماعت اسلامی کے ذمہ دار اصحاب سے باتیں کیں، اصحاب علم سے خط و کتابت کی۔ رفتہ رفتہ مجھ پر جماعت اسلامی کے فکر کی غلطی واضح ہوتی گئی۔ میں نے مناسب سمجھا کہ اب مجھے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔ جماعت اسلامی کے ذمہ داران کا اصرار تھا کہ میں جماعت اسلامی سے تعلق منقطع نہ کروں۔ کوئی راضی نہ تھا کہ میں جماعت اسلامی چھوڑ دوں۔ لیکن میرے لیے ایسا ممکن نہ تھا۔ سوال: ایسا کیوں ممکن نہ ہوا؟

جواب: اس لیے کہ میری دیانت دارانہ رائے یہ تھی کہ جماعت اسلامی مولانا مودودی مرحوم کے فکر کی بنیاد پر اٹھی ہے اور تاریخی اسباب نے ان کے لٹریچر کو یہ حیثیت دے دی کہ اب وہی ارکان جماعت کی نظر میں جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح ہے۔ ایسی حالت میں ایک شخص اگر جماعت اسلامی کے اندر رہتے ہوئے دین کی ایسی تشریح کو پھیلانے کی کوشش کرتا ہے جو مولانا کے لٹریچر کے مطابق نہیں تو یہ دیانت کے خلاف ہے۔ جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم ان کے اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے ہے، کسی دوسرے کے نظریات کی تبلیغ کے لیے نہیں۔

سوال: لیکن جماعت اسلامی کے ذمہ داران نے تو آپ کو اجازت دے دی تھی کہ آپ اپنے اختلافات پر قائم رہتے ہوئے جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم پر کام کر سکتے ہیں؟ جواب: جماعت اسلامی کے اندر رہ کر کام کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ جماعت مولانا مودودی کے لٹریچر کے بارے میں یہ طے کر دیتی کہ وہ جماعت اسلامی کے فکر کی مستند شرح نہیں، میں نے امیر جماعت اسلامی ہند کو یہ تجویز پیش بھی کی، جو ان کو قبول نہ تھی۔ ظاہر ہے، اس کے بعد میرے لیے ایک ہی راہ باقی رہ گئی کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کو کہنے کے لیے جماعت

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page