Al-Risala · September 2024 · page 50

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۵۰

کو قیامت کا وقت بتانے کے بجائے یہ پوچھا تھا کہ تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے : وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3688 ) ۔ یہی سوال یہاں بھی انسان کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ وہ اگر قبر یا قیامت کے تعلق سے فکر مند ہے تو اس نے وہاں کی گرفت سے بچنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کی ہے۔

حقیقت پسندی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ایک ہدایت ان الفاظ میں دی تھی : میری تعریف میں مبالغہ نہ کرو ( لا تُطْرُونِی ) ، جیسا کہ نصاری نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا۔ میں تو صرف اللہ کا ایک بندہ ہوں ، تم صرف یہ کہو کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 3445 ) ۔ اس ہدایت پر غور کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد امت کو ایک عظیم خطرہ سے بچانا تھا۔ اور وہ ہے غیر حقیقت پسندانہ مزاج۔ پیغمبر کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ ایک بشر تھے۔ اور مزید بات تھی کہ اللہ نے ان پر وحی نازل کی (18:110)۔ لیکن جب امت اطراء (مبالغہ آمیزی) کا معاملہ کرے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت کے اندر غیر حقیقت پسندانہ مزاج پرورش پاتا ہے ، یعنی امانی (wishful thinking) کا مزاج۔ مبنی بر حقیقت پلاننگ کا مزاج ان کے اندر ختم ہو جاتا ہے۔ یہ مزاج اس طرح آتا ہے کہ لوگ پہلے اپنے پیغمبر کو شہنشاہ کونین اور فخر موجودات جیسے مبالغہ آمیز القاب دیتے ہیں۔ پھر یہ مزاج عام ہو کر دوسرے مفروضہ بڑوں کے لیے بولا جانے لگتا ہے۔ مثلاً امام، اکابر، شیخ العالم، قائم الزماں اور سید الملت ، وغیرہ۔ مگر یہ سب غیر حقیقت پسندی یعنی قصیدہ خوانی کی زبان ہے۔ اور قصیدہ خوانی کا مزاج ہمیشہ لوگوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کا عمل روک دیتا ہے۔ لوگ اجتہاد کے بجائے فکری جمود (intellectual stagnation) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے پیغمبر اسلام نے اس مزاج سے اپنی امت کو شدت کے ساتھ روکا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page