Al-Risala · September 2024 · page 49

16 جون 1986

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۴، صفحہ ۴۹

طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے اپنے دین پر عمل کرتا ہے، اور اس کو دوسروں تک حکمت کے ساتھ پہنچاتا ہے تو اس کو ہرگز کسی سے کسی قسم کے جبر یا تشدد کا سامنا پیش نہیں آئے گا۔ اب اگر رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے تو صرف اس وقت جب کہ مسلمان خود اپنے کسی غیر حکیمانہ عمل کی بنا پر لوگوں کو غیر ضروری طور پر اپنا مخالف بنالیں۔ وہ ’’آبیل مجھے مار‘‘ کا طریقہ اختیار کر کے دوسروں کے اندر ایسا ردعمل (reaction) پیدا کریں کہ جو ان کے لیے عملاً موافق اقوام بنے ہوئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان کے مخالف بن جائیں۔

سوال عذاب قبر کے بارے میں کچھ بتائیں؟

جواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ، فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ، وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2308)۔ یعنی قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر کوئی اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کا راستہ آسان تر ہے، اور جو کوئی اس میں بچ نہ سکا، تو اس کے لیے بعد کا راستہ سخت مشکل ہے۔ قبر دوسری زندگی کا دروازہ ہے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی شخص کے لیے اس دروازہ کو کھلتے ہوئے اور پھر اس کے اوپر بند ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر ہم میں سے بہت کم لوگ ہیں، جو یہ جانتے ہیں کہ خود ان کے لیے بھی یہ دروازہ کھولا جائے گا، اور پھر اسی طرح بند ہوگا، جس طرح وہ دوسروں کے اوپر ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہے۔

اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قبر میں کس طرح کی پکڑ ہوگی یا کس طرح کا انعام دیا جائے گا۔ عذاب خواہ کم ہو یا زیادہ، عذاب انسان کے لیے تکلیف ہی ہے۔ اس لیے اصل فکر مندی کی بات یہ ہے کہ ایک انسان یہ سوچے کہ اس نے قبر کے لیے کیسی تیاری کی ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ نے اس

‹ Previous page Next page › Contents of September 2024 All issues

Printed page