Al-Risala · November 2024 · page 5

صور آخرت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۵

اعتبار سے مضبوط ہوں، وہ تعلیمی اعتبار سے آگے ہوں، ان میں باہم اتحاد ہو، اقتصادی شعبوں میں انھوں نے اپنی جگہ بنائی ہو۔ سماجی بہبود کے ادارے ان کے درمیان چل رہے ہوں۔ وہ زمانے کو پہچانیں اور اس کے مطابق کام کرنا جانتے ہوں ۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے اندر یہ شعور ابھارا جائے کہ وہ اعلیٰ سوچ والے انسان بنیں۔ انھیں چیزوں کے اوپر کسی قوم کی ترقی کا دارومدار ہے۔ لیکن مسلمانوں نے دوسروں کے خلاف سیاسی ہنگامہ آرائی تو خوب کی، خود اپنی تعمیر کے لیے کوئی کام نہ کیا۔ مزید نادانی یہ ہے کہ سیاست بازی سے جب وہ کامیاب نہ ہو سکے تو اب انھوں نے دوسرا مشغلہ یہ اختیار کیا ہے کہ اپنی ناکامی کے لیے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں ۔ حالانکہ اس قسم کی باتوں سے وہ، قرآن کے مطابق، صرف یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ انھوں نے کلمہ طیبہ کا درخت نہیں اگایا تھا، بلکہ کلمہ خبیثہ کا درخت اگایا تھا۔ کیونکہ کلمہ طیبہ کے درخت کے لیے خدا کا اعلان ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہیں سکتا: أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) ۔ یعنی، کلمہ طیبہ کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس، اللہ تعالی کے قانون فطرت کے مطابق، یہ انجام صرف کلمہ خبیثہ کے درخت کے لیے مقدر ہے کہ جو چاہے ہاتھ بڑھا کر اس کو اکھاڑ لے۔ قرآن کے الفاظ میں، کلمہ خبیثہ کی مثال ایک خراب درخت کی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے۔ اس کو کوئی ثبات نہیں: اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَار (14:26) ۔

صور آخرت

یکم جنوری 2002 کو میں بمبئی (موجودہ ممبئی) میں تھا۔ میں ہارون شیخ صاحب کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ 12 بج کر ایک منٹ پر گولا داغنے کی آواز آئی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ نیا سال شروع ہو گیا ہے ۔ اسی طرح ایک وقت آئے گا جب کہ صور پھونکا جائے گا۔ صور کی آواز اس بات کا اعلان ہوگی کہ انسان کے لیے ایک دور حیات ختم ہو گیا اور اب اس کی زندگی کا اگلا دور حیات شروع ہوا ہے جس کو آخرت کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page