فرقان کا اصول
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۲
فرقان کا اصول
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَيُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوَا إِنْ تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقَانًا (8:29)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھیں فرقان عطا کرے گا۔
فرقان کا لفظی مطلب ہے فرق کرنے والا۔ ابن عاشور التونسی (وفات 1393ھ) نے فرقان کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا ہے: وَهُوَ مَا یُفَرَّقُ أَیْ یُمَیَّزُ بَیْنَ شَیْئَیْنِ مُتَشَابِهَيْنِ (التحریر والتنویر، جلد 9، صفحہ 326)۔ یعنی وہ صلاحیت جو دو مشابہ چیزوں کے درمیان فرق کرتا ہے۔ قاضی ثناء اللہ (وفات 1810ء) نے فرقان کا مطلب ان الفاظ میں بیان کیا ہے: بَصِیْرَةً فِی قُلُوْبِکُمْ تُفَرِّقُوْنَ بِهَا بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِل (تفسیر مظہری، جلد 4، صفحہ 54)۔ یعنی اللہ تمھارے دلوں میں بصیرت عطا کرے گا، جس سے تم حق اور باطل میں تمیز کر لوگے۔
آج کے الفاظ میں اس کو قوت تمیز (the art of differentiation) یا معیار (criterion) کہا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ صلاحیت جس کی روشنی میں انسان ظاہری پہلوؤں سے دھوکا کھائے بغیر ہر بات کو اس کے اصل روپ میں دیکھ سکے۔ وہ ادھر اُدھر کے مغالطوں میں الجھے بغیر اصل حقیقت تک پہنچ جائے۔
فرقان کے معاملے کو دو اصحاب رسول کے واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے: عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، یَقُوْلُ: کَانَ بَیْنَ خَالِدٍ وَسَعْدِ کَلَامٌ، فَذَهَبَ رَجُلٌ یَقَعُ فِي خَالِدٍ عِنْدَ سَعْدٍ، فَقَالَ: مَہْ إِنَّ مَا بَیْنَنَا لَمْ یَبْلُغْ دِیْنَنَا (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 94)۔ یعنی طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ خالد بن ولید اور سعد بن ابی وقاص کے درمیان کچھ تکرار ہو گئی۔ اس کے بعد ایک شخص حضرت سعد کے پاس آیا اور حضرت خالد کی بُرائی کرنے لگا۔ اس پر حضرت سعد نے اس سے کہا: دور ہو جاؤ، ہمارے درمیان جو کچھ ہے، وہ ہمارے دین تک نہیں پہنچے گا_ حضرت سعد کی بات کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان جو اختلاف ہے، اس بنا پر ہم اپنی آخرت کو برباد نہیں کریں گے۔ یہی ہے فرقان کی صلاحیت۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues