Al-Risala · November 2024 · page 23

استقامت صفت

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۲۳

استقامت صفت

استقامت کیا ہے۔ استقامت کا مطلب ہے ناموافق حالات کے باوجود پوری دلجمعی سے اپنے مقصد پر لگے رہنا۔ یہ صفت دنیا میں انسان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کوئی مقصد آتا ہے تو اسی کے ساتھ دوسرے تقاضے بھی آتے رہتے ہیں۔ یہ دوسرے تقاضے انسان کو اس کے مقصد سے بار بار بھٹکاتے (distract) ہیں۔ ایسی حالت میں انسان کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈی ریل (derail) ہونے سے بچائے۔ جس لائن کو انسان نے بطور مقصد اختیار کیا ہے، وہ اس لائن سے نہ ہٹے ۔

زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کو کامیابی ہی کی کامیابی حاصل ہو جائے۔ انسان کو بار بار ایسے تجربات پیش آتے ہیں، جو اس کے لیے ناخوشگوار تجربات ہوتے ہیں۔ یہ ناخوشگوار تجربات آدمی کو استقامت کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں استقامت پر قائم رہنے کی صرف ایک ہی تدبیر ہے۔ وہ یہ کہ آدمی وقتی نقصان سے بددل نہ ہو۔ وہ وقتی نقصان کے باوجود اپنے سوچے سمجھے راستے پر قائم رہے۔

استقامت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی کو زندگی میں سیدھا راستہ مل جائے ، جو مڑے بغیر ہمیشہ سیدھی سمت میں چلتا رہے۔ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ زندگی میں ناموافق حالات پیش آئیں گے، جو اس کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کریں گے۔ مگر یہ رکاوٹیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے رکاوٹ نہیں ہوں گی، بلکہ وہ اس کے لیے مزید بہتر انداز سے مقصد کو سمجھنے اور منزل کی طرف آگے بڑھنے کا ذریعہ ہوگا۔ انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے، جو زندگی کی اس فطری حقیقت کو مزید قابل فہم (illustrate) کرتا ہے:

It is not ease, but effort, not facility but difficulty, makes men. آسانی نہیں، بلکہ جدوجہد، سہولت نہیں، بلکہ مشکلات انسان کو انسان بناتی ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page