Al-Risala · November 2024 · page 30

موت کا سفر

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۰

مطالعہ حدیث شرح مشکوٰۃ المصابیح (حدیث نمبر 162-158)

159 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا، اس کو بھی اتناہی اجر ملے گا جتنا ان لوگوں کو جنھوں نے اس کی پیروی کی ۔ اور اس سے ان لوگوں کے ثواب میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔ اور جس نے گمراہی کی طرف بلایا، اس پر بھی اتناہی گناہ ہوگا جتنا کہ ان لوگوں پر جنھوں نے اس کی پیروی کی ۔ اور اس سے ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2674) تشریح: آدمی اگر خود کوئی نقطہ نظر اختیار کرے تو ایسی حالت میں اس کی ذمہ داری صرف اس کی ذات تک محدود رہتی ہے۔ لیکن جب وہ اپنے نقطہ نظر کا اعلان عام کر کے اس کو دوسروں تک پہنچائے تو اس کی ذمہ داری بہت زیادہ وسیع ہو جاتی ہے۔ اگر وہ ایک صحیح نقطہ نظر کی اشاعت کر رہا ہے تو اس کے ذریعہ جن لوگوں کی اصلاح ہوگی ان سب کا ثواب اس کو بھی پہنچتا رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر وہ غلط نقطہ نظر کی اشاعت کرے تو اس کے ذریعہ جتنے لوگ گمراہ ہوں گے ان سب کی گمراہی بھی اس کے خانے میں لکھی جاتی رہے گی۔ آدمی کو ذاتی زندگی میں بھی محتاط ہونا چاہیے۔ لیکن اگر وہ دوسروں کو رہنمائی دینے کے لیے کھڑا ہو تو اس کو مزید اضافے کے ساتھ محتاط ہونا چاہیے۔ کیوں کہ اب اس کی ذمہ داری ہزاروں گنا حد تک زیادہ ہو چکی ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا اور پھر وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ شروع ہوا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کے لیے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page