Al-Risala · November 2024 · page 31

موت کا سفر

الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۱

تشریح : قدیم عرب کے لوگ اپنے اکابر کے دین پر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے سامنے دین خدا کو پیش کیا تو ان کو دین اکابر کے مقابلے میں دین خدا اجنبی معلوم ہوا۔ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، بعد کے زمانے میں خود امت کے اندر بھی یہی صورت پیش آنے والی ہے۔

بگاڑ کے زمانہ میں ایسا ہوتا ہے کہ خدا اور رسول والا دین گم ہو جاتا ہے اور دین کی دوسری دوسری شکلیں رائج ہو جاتی ہیں۔ مثلاً قومی دین، برکت والا دین، رسم و رواج والا دین، آبائی فخر والا دین، لوگ دین کی انھیں خود ساختہ شکلوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے سامنے خالص خدائی دین پیش کیا جاتا ہے تو یہ دین خدا دوبارہ ان کو اسی طرح اجنبی معلوم ہوتا ہے جس طرح وہ قدیم زمانے کے لوگوں کو اجنبی دکھائی دیتا تھا۔ چنانچہ وہ خدا اور رسول والے دین کو اجنبی سمجھ کر اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اس دورِ اجنبیت میں جو لوگ خالص دین خدا کو پہچانیں اور اس کا ساتھ دیں وہ بہت خوش قسمت لوگ ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے اس وقت معرفت کی سطح پر دین کو دریافت کیا جب کہ دوسرے لوگ صرف رواج کی سطح پر دین کو پائے ہوئے تھے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف سمٹ آتا ہے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1876 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر 147)

تشریح : شاید یہ خدا کا منصوبہ ہے کہ دین کی قدریں جب دوسری جگہ مٹ رہی ہوں اس وقت بھی وہ مدینہ (وسیع تر معنوں میں حجاز) میں موجود رہیں۔ حجاز کو اللہ نے ابدی طور پر مرکز اسلام کی حیثیت دے دی ہے۔ بعد کے زمانے میں جب کہ زمین کے دوسرے حصوں میں غیر اسلامی تہذیب کا غلبہ ہو جائے گا اس وقت بھی حجاز میں کسی نہ کسی درجہ میں اسلام کی مرکزیت باقی رہے گی۔ ایسا غالباً اس لیے ہوگا کہ حجاز میں اسلام کی دوسب سے بڑی عبادت گاہیں واقع ہیں، یعنی کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues

Printed page