موت کا سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۳
ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے تخت پر تکیہ لگائے ہوئے ہو۔ اس کے سامنے میرے احکام میں سے کوئی حکم آئے جس کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ پھر وہ کہے کہ میں نہیں جانتا، جو کچھ ہم نے اللہ کی کتاب میں پایا اس کی ہم نے پیروی کی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 23876، سنن ترمذی، حدیث نمبر 2663، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4605، سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 13) شرح: قرآن کی حیثیت بنیادی اصول کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیادی ربانی اصول کی طرف لوگوں کو بلایا اور اس کو قائم فرمایا۔ اس طرح آپ کی زندگی قرآن کی عملی تشریح بن گئی۔ یہی وجہ ہے کہ خود قرآن کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو جاننا لازمی طور پر ضروری ہے۔ دین میں صرف قرآن کی حیثیت حجت (authoritative source) کی ہے، یا حدیث رسول بھی دین میں یکساں درجے میں حجت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک خالص قانونی مسئلہ ہے۔ عملی اعتبار سے جس چیز کی اہمیت ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اسلام کی روح زندہ ہو۔ دین پر عمل کرنے کی تڑپ اس کے اندر پیدا ہوگئی ہو۔ اللہ سے محبت اور اللہ کا خوف اس کے دل میں بھر پور طور پر جاگزیں ہو گیا ہو۔ جن لوگوں کے اندر اسلام کی یہ اسپرٹ پیدا ہو جائے، وہ کسی قانونی فتوے کے بغیر پوری طرح اسلام کو اختیار کر لیں گے، اور جن لوگوں کے اندر اسلام کی روح بیدار نہ ہوئی ہو، ان کے لیے کوئی بھی قانونی فتویٰ عملی بیداری کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ ایک شخص قرآن کو دین میں حجت مانتا ہو، لیکن اس کے اندر دین کی اسپرٹ موجود نہ ہو تو وہ خود قرآن کے احکام پر بھی عمل نہیں کرے گا۔ قرآن کے بارے میں وہ بڑی بڑی بحثیں کرے گا، لیکن اس کی حقیقی زندگی قرآن کی تعلیمات سے خالی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں اصل مسئلہ حدیث کی حجیت کو منطقی طور پر ثابت کرنا نہیں ہے، بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ حدیث کی دینی اہمیت اور افادیت کو آدمی کے دل میں اس طرح اتار دیا جائے کہ وہ اس سے انحراف کا تحمل نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues