موت کا سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۴، صفحہ ۳۲
ربیعہ الجرشی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والا آیا۔ پھر آپ سے کہا گیا۔ آپ کی آنکھیں سوتی رہیں، اور آپ کے کان سنتے رہیں اور دل سمجھتا رہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر میری آنکھیں سوگئیں۔ اور میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے (اس کو) سمجھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھ سے یہ (مثال) بیان کی گئی: ایک مالک نے گھر بنایا۔ اس نے وہاں ایک خوان تیار کیا اور بلانے والے کو بھیجا تو جس نے بلانے والے کی دعوت قبول کی، وہ گھر میں داخل ہوا اور خوان سے کھایا اور مالک اس سے خوش ہوا۔ مگر جس نے بلانے والے کی دعوت قبول نہ کی، وہ نہ گھر میں داخل ہوا، نہ اس نے خوان سے کھایا، چنانچہ مالک اس سے ناراض ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ مالک سے مراد اللہ ہے، اور بلانے والے سے مراد محمد ہیں۔ اور گھر سے مراد اسلام ہے۔ اور خوان سے مراد جنت ہے۔ (سنن الدارمی، حدیث نمبر 11)
تشریح: انسان اپنے مزاج کے اعتبار سے ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن سوسال کے اندر ہی یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ہر عورت اور مرد اپنی مرضی کے خلاف اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ زمین پر پیدا ہونے والا انسان دو چیزوں کا تجربہ کرتا ہے۔ پہلے زندگی کا تجربہ، اور اس کے بعد موت کا تجربہ۔ اس قانون فطرت سے کسی کو استثنا حاصل نہیں۔ اگر انسان سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات پر سوچے تو وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی حقیقت کو دریافت کرے گا، وہ یہ کہ انسان کو پیدا کرکے اس زمین پر آباد کرنا بطور انعام نہیں ہے، بلکہ وہ بطور امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ یہ معلوم کیا جائے کہ کون شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کون شخص اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ کون شخص با اصول زندگی گزارتا ہے اور کون شخص بے اصول زندگی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں اسی معاملے کو بتایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ نے کامل ہدایت کا انتظام فرمایا۔ اب جو لوگ اس ہدایت کی روشنی میں اپنی آزادی کا درست استعمال کریں گے ان کے لیے کامیابی ہے، اور جو لوگ اس کی پیروی نہ کریں وہ ابدی ناکامی کا شکار ہوکر رہ جائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2024 All issues