Al-Risala · January 2024 · page 46

بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۶

آج میں نے سورہ القمر کی تفسیر مکمل کی ہے۔ اس سورہ میں یہ آیت چار مرتبہ (آیت نمبر 40، آئی ہے:

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا)۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کو ایک مشکل پیش آئی ہے۔ اگر اس کا مفہوم ظاہری الفاظ کے لحاظ سے یہ لیا جائے کہ قرآن سے نصیحت حاصل کرنا بالکل آسان ہے تو ایک شخص کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ قرآن میں، معاذ اللہ، گہرے معانی موجود نہیں ہیں، یہ صرف عام لوگوں کی کتاب ہے۔ اور اگر یہ مانا جائے کہ قرآن میں گہرے حقائق ہیں جیسا کہ حدیث میں بھی آیا ہے کہ لا تَنْقَضِي عَجَائِبه (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2906)، یعنی اس کے عجائبَات ختم نہیں ہوں گے، تو پھر تفسیر کی معنویت بظاہر مشکل معلوم ہوتی ہے۔ جن مفسرین نے اس آیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی لمبی لمبی عبارتوں کے باوجود متعین طور پر یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت کا مفہوم کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن مفسرین نے زیادہ تفصیل کے ساتھ اس آیت کا مفہوم بتانے کی کوشش کی ہے، انہوں نے آیت کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔

اسی الجھن کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے سورہ القمر کی پوری تفسیر لکھ لی، مگر اس آیت کی تفسیر لکھنے سے رہ گئی۔ آج جب کہ تفسیر کے خاتمہ پر اس آیت کے بارے میں غور کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مضمون کا گویا القا ہوا اور دل نے کہا کہ یہی اصل تفسیر ہے۔ ”تذکیر القرآن‘ میں یہی تفسیر حسب ذیل الفاظ میں درج ہے:

”قرآن اگرچہ گہرے معانی کی کتاب ہے۔ مگر اس کے اندازِ بیان میں حد درجہ وضوح (clarity) ہے۔ اس وضوح کی بنا پر قرآن کا سمجھنا ہر آدمی کے لیے آسان ہو گیا ہے۔ خواہ وہ ایک عام آدمی ہو یا ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی۔ “ تذکیر القرآن کی ترتیب کے سلسلے میں مجھ کو اس طرح کے تجربے بار بار پیش آئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page