بندہ شدن از بندگان عبید بیاموز
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۴۵
نہیں رہے ہیں کہ وہ مثبت انداز میں سوچیں اور تعمیری انداز میں کچھ کریں۔ ہندوستان میں 20 ہزار اخبارات نکلتے ہیں، جن کی مجموعی اشاعت (circulation) 50 ملین ہے۔ یہ تعداد 1952ء کے مقابلہ میں چوگنی زیادہ ہے۔
خالص قانونی اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہے کہ ہندوستان کے اخبارات بھی اتنا ہی آزاد ہیں جتنا کہ امریکہ یا جاپان یا مغربی یورپ کے اخبارات۔ مگر عملاً یہ بات درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کا اخبار نویس اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ جب کہ ہندوستان کا اخبار نویس اس پوزیشن میں نہیں۔
دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کا اخبار نویس اتنا دولت مند ہوتا ہے کہ اس کو کم از کم چھوٹی موٹی رشوتوں سے خریدا نہیں جا سکتا۔ جب کہ ہندوستان کا حال یہ ہے کہ رعایتی قیمت پر ایک پلاٹ، کم شرح پر ایک فلیٹ یا یورپ کا ایک تفریحی سفر (pleasure trip) بھی اس کے قلم کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔ چنانچہ ہندوستان کے تاجر اور یہاں کی حکومت دونوں اخبار نویس کو مذکورہ قسم کی رشوتیں دے کر پریس کی قانونی آزادی کو خرید رہے ہیں۔
انڈین ایکسپریس (30 اپریل 1986ء) کے ایک آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ دہلی کے بہت سے انگریزی اخبار نویس بڑے بڑے تاجروں سے باقاعدہ رقمیں پاتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے موافق چیزیں لکھیں اور چھاپیں۔
اتر پردیش کی حکومت نے پانچ اخبار نویسوں کو یورپ کے تفریحی سفر پر روانہ کیا۔ ان کو چیف منسٹر کے ریلیف فنڈ اور جنرلسٹس ویلفیئر فنڈ سے پندرہ ہزار روپے فی اخبار نویس دیے گئے۔ نیز ان کو پستول برآمد کرنے کا لائسنس دیا گیا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ وہ باہر سے پستول خرید کر لائیں اور ہندوستان میں اس کو فی پستول پندرہ ہزار روپے نفع کے ساتھ بیچ دیں۔ کسی حق سے فائدہ اٹھانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس کے موافق حالات بھی لوگوں کے لیے موجود ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues