Al-Risala · January 2024 · page 6

گزر راہِ زمانہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۶

گزر راہِ زمانہ

قرآن کی سورہ عصر کا ترجمہ یہ ہے: قسم ہے زمانہ کی۔ بے شک انسان بڑے خسارہ میں ہے، سوا ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی (103:1-3)۔

عصر کا مطلب ہے گزرا ہوا زمانہ۔ ’’گزرتے ہوئے‘‘ زمانہ میں انسان ایک ’’ٹھہری ہوئی‘‘ مخلوق ہے۔ وہ بقیہ کائنات کے سرگرم قافلہ کے ساتھ لازمی طور پر بندھا ہوا نہیں ہے۔ انسانی زندگی کی یہ آزاد نوعیت بتاتی ہے کہ اس دنیا میں کامیابی کے لیے آدمی کو بالارادہ کوشش کرنا ہے، جب کہ نا کامی اس کی طرف اپنے آپ چلی آ رہی ہے۔

ایک بزرگ نے کہا کہ سورہ عصر کا مطلب میں نے ایک برف بیچنے والے سے سمجھا جو بازار میں آواز لگا رہا تھا کہ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ لوگو، اس شخص پر رحم کرو جس کا اثاثہ گھل رہا ہے۔ اس کی پکار کو سن کر میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس طرح برف پگھل کر کم ہوتا رہتا ہے، اسی طرح انسان کو ملی ہوئی عمر بھی تیزی سے گزر رہی ہے۔ عمر کا موقع اگر بے عملی یا برے کاموں میں کھودیا جائے تو یہی انسان کا گھاٹا ہے (تفسیر رازی، جلد 32، ص 278)۔ انسان اپنی گزرتی ہوئی عمر کے ساتھ آخرت کے ابدی انجام کی طرف چلا جا رہا ہے۔ وہ ایسے فیصلہ کن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جس نے اپنے عمل سے اس کا استحقاق پیدا کیا ہو۔ جو شخص عملی استحقاق کے بغیر وہاں پہونچے اس کے لیے آخرت کے دن ابدی بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

موجودہ دنیا ایک انتہائی مکمل دنیا ہے۔ یہاں انتہائی با معنی قسم کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایک پابند نظام کے تحت ہورہا ہے۔ وسیع کائنات اپنے بے شمار اجزاء کے ساتھ ایک زبردست خدائی قانون میں جکڑی ہوئی ہے ۔ ہر چیز ٹھیک وہی کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اس کو بنایا گیا ہے۔ مگر انسان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انسان ، دوسری تمام چیزوں کے برعکس،

‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues

Printed page