گزر راہِ زمانہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۴، صفحہ ۷
بالکل آزاد ہے۔ یعنی انسان کی فلاح بھی تمام تر اسی میں ہے کہ وہ بقیہ کائنات کا ہم سفر بن جائے۔ تاہم اللہ کے منصوبۂ تخلیق کے مطابق، کائناتی طریقہ کو اختیار کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ تمام تر اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے، وہ چاہے تو اس کو اپنائے اور چاہے تو نہ اپنائے۔
کائنات کے مقابلہ میں انسان کی مثال ایسی ہے جیسے ٹرین کے مقابلہ میں اسٹیشن پر کھڑے ہوئے مسافر کی۔ ٹرین اپنے تمام اجزاء سمیت انجن کے ساتھ بھاگی چلی جارہی ہے۔ ٹرین کا ہر ڈبہ انجن سے بندھا ہوا ریل کی پٹری پر دوڑ رہا ہے۔ مگر مسافر اور ڈبہ میں یہ فرق ہے کہ ڈبہ تو انجن سے بندھا ہوا اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ مگر انسان اس وقت ٹرین کا مسافر بنتا ہے جب کہ وہ بالقصد اپنے آپ کو اس کے اندر داخل کرکے اس کا شریک سفر بننے پر راضی ہوجائے۔ گویا انسان کو ٹرین کا ہم سفر بننے کے لیے تو ارادی عمل کی ضرورت ہے مگر ٹرین سے بچھڑنے کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ بچھڑنے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے برف پگھل کر ختم ہونے کا واقعہ اپنے آپ ہورہا ہے۔ مگر اس کو بیچ کر اس سے نفع حاصل کرنے کے لیے بالقصد عمل کی ضرورت ہے۔ یا جیسے کسی طالب علم کے امتحان میں ناکام ہونے کے لیے تو صرف اتنی بات کافی ہے کہ وہ کچھ نہ کرے۔ لیکن اگر وہ کامیاب ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ وہ امتحان کے نظام میں اپنے آپ کو شریک کرے اور ان تقاضوں کو پورا کرے جو تعلیم کے ذمہ داروں نے مقرر کیا ہے۔
انسان کی زندگی کا زیادہ بڑا حصہ وہ ہے جو موت کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ موت سے پہلے کی زندگی اس کے پورے عرصہ حیات کا محض ایک ابتدائی وقفہ ہے۔ یہی مختصر وقت انسان کا اصل سرمایہ ہے۔ کیوں کہ اسی پر اس کی آئندہ آنے والی طویل تر زندگی کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس محدود مدت کو صحیح طور پر استعمال کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس میں معمولی غفلت بھی ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں انسان کو بھگتنی پڑے گی۔ اس کو صحیح استعمال کرنے والا کون ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو موجودہ دنیا میں تین باتوں کا ثبوت دے سکے۔ ایک وہ جس کو ایمان کہا جاتا ہے۔ یعنی حقیقت کا شعور اور اس کا اعتراف۔ دوسرے عمل صالح۔ یعنی وہی کرنا جو خالق کی اسکیم آف تھنگس کے مطابق درست ہو اور وہ نہ کرنا جو خالق کی اسکیم آف تھنگس کے مطابق درست نہ ہو۔ تیسرے حق و صبر کی تواصی۔ یعنی سچائی کا ادراک اتنا گہرا ہو کہ آدمی اس کا داعی اور مبلغ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2024 All issues