پیٹنٹ کا قانون
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۶
پیٹنٹ کا قانون
دورِ جدید میں ایک نیا ظاہرہ وجود میں آیا ہے۔ وہ ہے ایک موجد کو اس کی ایجاد پر محدود وقت کے لیے استعمال کی اجارہ داری دینا۔ اس کو قانون کی زبان میں پیٹنٹ (patent) کہا جاتا ہے۔ یہ انٹلیکچول پراپرٹی (intellectual property) کی ایک قسم ہے جو اس کے مالک کو قانونی حق دیتا ہے کہ وہ اپنی ایجاد کردہ چیز کو دوسروں کو محدود مدت کے لیے اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنے یا فروخت کرنے سے روک دے یا اس پر کچھ رائلٹی حاصل کرے۔ یعنی پیٹنٹ کا قانون ایک مقررہ مدت کے لیے صاحب ایجاد کو اس کے عمل کے اوپر خصوصی حقوق فراہم کرتا ہے۔ A patent is a temporary Government grant of a monopoly to the inventor in return for complete disclosure about the invention to the Government. یہ ایک عارضی گرانٹ ہوتا ہے۔ اس لیے کہ کوئی ایجاد بھی ایک انسان کی تنہا کوششوں کا نتیجہ نہیں ہوتی ہے، بلکہ اس میں پچاس فیصد سے زیادہ براہ راست یا بالواسطہ تعاون فطری وسائل اور دوسرے انسانوں کا ہوتا ہے۔ اس کی رعایت کرتے ہوئے انسان کو اس کی ایجاد کے لیے محدود وقت کا پیٹنٹ حق دیا جاتا ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق، پہلا ریکارڈ شدہ پیٹنٹ 1421ء میں اٹلی کے معمار اور انجینیئر فلپو برونیچی (Filippo Brunelleschi, 1377-1446) کو دیا گیا تھا۔ پیٹنٹ کا قانون کائنات کی ایک فطری حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے۔ وہ ہے مخلوق کے اوپر اس کے خالق کی اجارہ داری کو قبول کرنا۔ انسان کی ایجاد کے برعکس، خالق کی ایجاد میں کسی کی کوئی شرکت نہیں ہوتی ہے، یعنی خالق نے کسی شریک کی مدد کے بغیر تنہا اپنی مخلوق کو ایجاد (پیدا) کیا ہے، اور ہر لمحہ وہ اس کی نشوونما کے اسباب فراہم کر رہا ہے۔ اس لیے خالق کی ایجاد پر خالق کی اجارہ داری محدود مدت کے لیے نہیں ہوسکتی ہے، بلکہ مخلوق کے اوپر خالق کی اجارہ داری ابدی ہے۔ خالق نے اپنے تخلیق کا ثبوت انسان کے سامنے واضح طور پر رکھ دیا ہے۔ یہ ثبوت قرآن کے اندر بیان کیے گئے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ اس کتاب کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues