Al-Risala · March 2024 · page 7

پیٹنٹ کا قانون

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۷

مطالعہ کرے اور سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس سے یہ حقیقت انسان کے سامنے کھل جائے گی کہ اس کا خالق اس سے کیا چاہتا ہے ۔ اور ایسا کرنے کی صورت میں انسان کو کیا فائدہ حاصل ہو گا ۔ جس طرح دنیوی رواج کے مطابق ، ایک انسان اپنی ایجاد پر رائلٹی (royalty) کا حقدار ہوتا ہے ، اسی طرح اللہ رب العالمین بھی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی خلق اور ایجاد پر اس کو رائلٹی ادا کی جائے۔ ہر عورت اور مرد اپنی ذات، اور دنیا میں موجود جن چیزوں سے بھی وہ فائدہ اٹھاتا ہے، اس کی رائلٹی وہ خالق کو ادا کرے ۔

A royalty is a legally binding payment made to an individual or company for the ongoing use of their assets, including copyrighted works, franchises, and natural resources. وہ رائلٹی ہے، اللہ کی عبادت اور اس کے لیے سبمیشن۔ یہ یہ ایک انسان کے لیے فطری بائنڈنگ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔ وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا، اور اتارا آسمان سے پانی اور اس سے پیدا کیے پھل تمہاری غذا کے لیے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ، حالاں کہ تم جانتے ہو (21-22: 2)۔ اگر کائنات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے سوا تمام مخلوقات خالق کے آگے جبلت (instinct) کے تحت اپنے آپ کو سرینڈر کیے ہوئے ہیں۔ صرف انسان ایسی مخلوق ہے جس میں سے کچھ لوگ خالق کے آگے مکمل طور پر سرینڈر کیے ہوئے ہیں، اور کچھ لوگ سرینڈر نہیں کیے ہوئے ہیں (الحج، 22: 18)۔ ایسا اس لیے ہے کہ منصوبہ تخلیق کے تحت رب العالمین نے انسان کو اپنے آگے جھکنے کے معاملے میں آزادی دے رکھی ہے، اور اس کی یہ مرضی ہے کہ انسان اپنے آزادانہ ارادے کے تحت اپنے خالق یعنی رب العالمین کے آگے جھک جائے، اور وہ اپنے شعوری ارادے کے تحت اس کو اپنا رب تسلیم کرلے، اور بطور ٹوکن خالق کو اپنی طرف سے کچھ رائلٹی ادا کرے ۔ جو لوگ ایسا کریں گے ، ان کے لیے خدا نے اپنی رحمت سے ایک ابدی انعام تیار کر رکھا ہے، یعنی ابدی جنت میں سچائی کی سیٹ کا پروانہ عطا کرنا۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page