تعارف جنت
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۱
یہ ہو جائے کہ وہ اپنے سامنے برائی کے واقعات کو لا تعلقی کے انداز میں (indifferently) دیکھنے لگیں تو دھیرے دھیرے ان خرابیوں کے نتیجہ میں ایسے فتنے ابھرتے ہیں جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
ماحول کا دباؤ سب سے بڑا دباؤ ہے حتی کہ حکومت اور عدالت سے بھی زیادہ۔ اگر آس پاس کا ماحول برائی کورو کے اور حق کی حمایت میں کھڑا ہو جائے تو کبھی برائیاں پھیل نہیں سکتیں۔ اس کے برعکس، جب سماج کے افراد برائی کودیکھنے کے باوجود خاموش رہیں تو اس سے بیک وقت دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک طرف برائی کرنے والے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور دوسری طرف مظلوم کے اندر انتقام اور بے اعتمادی۔ یہ دونوں چیزیں وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ برائیاں بڑھ کر خود ان لوگوں کو نقصان پہنچانے لگتی ہیں جو اپنے کو مامون سمجھ کر برائی کے معاملہ میں غیر جانب دار بن گئے تھے۔
تعارف جنت
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (47:6)۔ یعنی اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اس نے انھیں پہچان کرا دی ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا تعارف اس دنیا میں کرا دیا گیا ہے۔ یہ تعارف کہاں ہے ۔ وہ کیا چیز ہے، جس کو جنت کا تعارف کہا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دور جدید کے ریفرنس میں یہ تعارف صنعتی تہذیب ہے۔ صنعتی تہذیب جو سائنس کی تحقیقات پر مبنی ہے۔ اس نے یہ کیا ہے کہ فطرت میں چھپے ہوئے خزانے کو دریافت کیا، اور اس کو انسان کے لیے قابل مشاہدہ اور قابل استعمال بنا دیا۔ فطرت کی دنیا میں ہمیشہ سے اللہ کی بہت سے نعمتیں چھپی ہوئی تھیں۔ لیکن انسان ان کے بارے میں کوئی علم نہ رکھتا تھا۔ مثلاً موٹر کار اور ہوائی جہاز ۔ اسی طرح دوسری تمام سائنسی دور کی مصنوعات ہیں۔ انسان نے فطرت میں چھپی ہوئی ان نعمتوں کو دریافت کیا، اور اس کو قابل استعمال بنایا۔ یہ تمام سائنسی دریافتیں دور جدید کے انسانوں کے سامنے بہت ہی محدود سطح پر جنت کا تعارفی گلمپس (glimps) پیش کرتی ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues