Al-Risala · January 2025 · page 10

برائی کوروکو

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۰

برائی کوروکو

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے : مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي ثُمَّ يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا ثُمَّ لَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ ( سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 4338) ۔ یعنی، کسی بھی قوم میں اگر گناہ کیے جائیں اور قدرت رکھنے کے باوجود لوگ گناہ گاروں کو نہ روکیں تو قریب ہے کہ خدا ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔

ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عن المُنْكَرِ، أو ليوشكن الله يبعث عليكم عقابًا منه، ثُمَّ تَدْعُونَهُ، فلا يستجيب لكم ( سنن الترمذی، حدیث نمبر (2309) ۔ یعنی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ضرور ہے کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ورنہ جلد ہی خدا تم سب پر عذاب بھیج دے گا۔ پھر تم خدا کو پکارو گے مگر وہ تم کو کوئی جواب نہ دے گا۔

حدیث میں اس قسم کی جو ہدایتیں نقل ہوئی ہیں وہ اصلاً سماجی ہدایتیں ہیں، نہ کہ سیاسی ہدایتیں۔ یعنی ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی حکمراں کو ”ظالم “ قرار دے کر اس کے خلاف شور و غل کرو اور انصاف قائم کرنے کے نام پر اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلاؤ ۔ اس قسم کی اسلامی سیاست محض موجودہ زمانہ کی سیاسی پارٹیوں کی نقل ہے۔ اس کا مذکورہ اسلامی ہدایت سے کوئی تعلق نہیں۔ ان ہدایات کا مخاطب معاشرہ کا ہر فرد ہے، نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔

کسی معاشرہ میں ہمیشہ تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو شرارت کرتے ہیں ۔ اگر معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو تو جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کو ستا رہا ہے ۔ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو تکلیف دے رہا ہے۔ ایک صاحب معاملہ دوسرے صاحب معاملہ کے حقوق ادا نہیں کرتا تو ایسے معاشرہ میں مظلوم کو خود اپنے آس پاس ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کی حمایت میں کھڑے ہو جائیں۔ وہ ظالم کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آئے۔ ایسے سماج میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں مگر وہ وہیں کی وہیں ختم ہو جاتی ہیں ۔ اس کے برعکس، جب سماج کے لوگوں کا حال

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page