Al-Risala · March 2025 · page 39

فقہی مسائل میں اختلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۳۹

لگے ۔ یہی وہ ظاہر ہ ہے جس نے اسلام میں مذہبی فرقہ بندی کے دور کا آغاز کر دیا۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیشگی ہدایت کے طور پر موجود تھی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اِقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمْ (جامع بیان العلم وفضلہ، حدیث نمبر 1760)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے تم ہدایت پر ہوگے ۔ اس حدیث کے مطابق صحابہ کے درمیان عبادت کے طریقوں میں اختلاف تنوع (diversity) کی بنا پر تھا، یعنی ہر طریقہ جو کسی صحابی سے ثابت ہو وہ یکساں طور پر درست ہے۔ عقلی طور پر تنوع کا یہ طریقہ قابل فہم تھا، کیوں کہ صحابہ کا اختلاف یا فرق صرف جزئیات (non-basics) میں تھا، وہ کلیات (basics) میں نہ تھا۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فطری قانون کے مطابق جزئیات میں ہمیشہ فرق پایا جاتا ہے، جزئیات میں یکسانیت (uniformity) کا حصول ممکن نہیں۔

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر یہ اختلاف مسلکی شدت کا سبب بن گیا۔ جب کہ یہ اختلاف خود صحابہ میں موجود تھا، مگر صحابہ کے درمیان ان اختلافات کی بنیاد پر کوئی مسلکی تشدد نہیں پیدا ہوا۔ اس کا سبب واضح طور پر یہ تھا کہ صحابہ مختلف طریقوں پر عبادت کرتے تھے، لیکن ان میں سے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں طریقہ افضل ہے، اور فلاں طریقہ غیر افضل۔ وہ مختلف طریقوں پر اس طرح عمل کرتے تھے جیسے کہ ہر طریقہ یکساں طور پر درست ہو ۔ مگر بعد کو ایسا ہوا کہ انہی اختلافات کو لے کر امت مختلف فرقوں، بلکہ متحارب گروہوں میں بٹ گئی۔ جب کہ اس قسم کی فرقہ بندی شریعت میں سخت نا محمود (الروم ، 30:32) ہے۔ اس معاملے میں اصل غلطی عباسی دور کے علمائے فقہ کی ہے، جن کو ائمہ مجتہدین کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اس اختلاف کے موضوع پر بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ ان اختلافات کو بطور خود وہ درجہ دے دیا جو کہ شریعت میں ان کا درجہ نہ تھا، اور نہ کسی صحابی نے ان اختلافات کے بارے میں ایسا کہا تھا۔ ان فقہانے یہ کیا کہ انھوں نے ترجیح (preference) کے نام سے بطور خود ایک اصول وضع کیا۔ انھوں نے لمبی بحثیں کر کے ایک طریقے کو راجح اور دوسرے طریقے کو مرجوح ثابت کرنے کی

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page