Al-Risala · March 2025 · page 40

فقہی مسائل میں اختلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۴۰

کوشش کی ۔ انھوں نے اختلافات کو بیان کیا، اور پھر ایک مسلک کو لے کر کہا: هذا أَحْوَطُ (یہ زیادہ محتاط طریقہ ہے)، هذا أَفْضَلُ (یہ زیادہ افضل طریقہ ہے)۔

انھوں نے بطور خود ایک مسلک کو اولیٰ اور دوسرے مسلک کو غیر اولیٰ قرار دیا۔ یہ بلاشبہ علمائے فقہ کی ایک اجتہادی غلطی تھی۔ یہی وہ اجتہادی غلطی ہے جس نے امت میں فقہی تشدد کا آغاز کر دیا، جو پھر کبھی ختم نہ ہوسکا۔

یہ انسان کی نفسیات ہے کہ اس کے لیے جب انتخاب افضل اور غیر افضل کے درمیان ہو تو وہ ہمیشہ افضل کا انتخاب کرے گا۔ وہ اپنے انتخاب کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر طرح کے دلائل دے گا۔ بعد کے زمانے میں انسان کی یہی نفسیات بروئے کار آئی، اور فقہی مسلک میں اختلاف کے نتیجے میں نفرت اور تشدد حتیٰ کہ جنگ تک کو جائز کر لیا گیا۔

اس معاملے میں دورِ اول کے علما کو بری الذمہ قرار دینے کے لیے یہ کہا جاتا ہے کہ ایک مسلک کو قابل ترجیح قرار دینے کے باوجود مسلک کے بارے میں متشدد نہ تھے۔ مثلاً حنفی اور شافعی فقہا نماز میں بسم اللہ پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ مالکی فقہا اس کے قائل نہ تھے، مگر دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کی ۔ اسی طرح امام شافعی فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کے قائل تھے، جب کہ امام ابوحنیفہ اس کے قائل نہ تھے، مگر جب امام شافعی امام ابوحنیفہ کے مقبرہ کے پاس گئے اور وہاں فجر کی نماز ادا کی تو انھوں نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، وغیرہ۔ مگر اس طرح کا عمل صرف انفرادی اخلاق کو ثابت کرتا ہے، اور شرعی اختلاف کے حل کے لیے شرعی اصول درکار ہے، نہ کہ انفرادی اخلاق۔

دینی امور میں جب کسی ایک طریقہ کو دوسرے طریقے کے مقابلے میں افضل بتایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ افضل طریقہ میں زیادہ ثواب ہے، اور غیر افضل طریقہ میں کم ثواب ہے۔ ایک فقہی عالم اگر افضلیت اور غیر افضلیت کی زبان میں اس طرح کا مسئلہ بتائے، اور اس کے بعد مخالف مسئلہ بتانے والے عالم کے پیچھے ایک بار نماز پڑھ لے تو اس قسم کے عمل سے فقہی تشدد ختم نہیں ہوسکتا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page