Al-Risala · March 2025 · page 42

اختلاف کے باوجود

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۴۲

اختلاف کے باوجود

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تیسرے خلیفہ راشد تھے۔ آخر عمر میں بعض جھوٹی خبروں کی بنا پر ایک ہزار سے زیادہ آدمی مدینہ آئے۔ انھوں نے مدینہ پہنچ کر کافی شور وغل کیا اور آخر کار حضرت عثمان کے مکان کو گھیر لیا۔ اگرچہ حضرت عثمان کے خلاف ان کا الزام سراسر بے بنیاد تھا، مگر یہ مسلمان آپ سے اتنا برہم ہوئے کہ آپ کا گھر سے نکلنا اور گھر میں پانی جانا بند کر دیا۔ یہاں تک کہ 18 ذی الحجہ 35ھ کو حملہ کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ بوقت وفات آپ کی عمر 82 سال تھی۔

حضرت عثمان کا محاصرہ تقریباً 40 دن تک جاری رہا۔ بلوائیوں نے جب حضرت عثمان کو گھیر لیا اور مکان سے نکلنے پر پابندی لگا دی تو آپ کے لیے مسجد جانا ممکن نہ رہا۔ خلیفہ کی حیثیت سے نمازوں کی امامت آپ ہی فرماتے تھے۔ جب آپ کا مسجد جانا بند ہو گیا تو بلوائیوں کا سردار غافقی بن حرب عکی امام بن گیا۔ اس نے مدینہ کی مسجد میں نمازوں کی امامت شروع کر دی۔

یہ مدینہ کے مسلمانوں کے لیے بڑی سخت آزمائش کی بات تھی۔ ایک طرف وہ اپنے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں، دوسری طرف وہ دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص جو کھلا ہوا مفسد اور غلط کار ہے، وہی مسجد کا امام بنا ہوا ہے۔ اس نازک حالت میں ایک شخص حضرت عثمان سے ملا اور ان سے پوچھا کہ ایسی حالت میں ہم کیا کریں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ ہدایت فرمائی کہ تم لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرو۔ آپ نے فرمایا: فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 695)۔ یعنی، جب وہ لوگ کوئی نیک کام کریں تو اس میں ان کا ساتھ دو اور جب وہ لوگ کوئی برا کام کریں تو ان کی برائی سے دور رہو۔

خلیفہ راشد کے اس واقعہ میں عظیم الشان نمونہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص سے ہمیں خواہ کتنی ہی زیادہ شکایت ہو، اس کے بارے میں اظہارِ رائے کرتے ہوئے ہمیں ہمیشہ انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اختلاف کو حد کے اندر رکھنا چاہیے، نہ یہ کہ اختلاف پیدا ہونے کے بعد ہم حد کے باہر نکل جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page