Al-Risala · March 2025 · page 41

فقہی مسائل میں اختلاف

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۴۱

کا یہ عمل لوگوں کی نظر میں ذاتی نوعیت کا ایک اخلاقی برتاؤ یا حسن معاشرت قرار پائے گا، نہ کہ کوئی شرعی مسئلہ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جب حسن معاشرت اور دینی افضلیت کے درمیان انتخاب (choice) ہو تو آدمی ہمیشہ اس طریقے کو لے گا جس کو افضل بتایا گیا ہے، اور غیر افضل پر عمل کرنے والے کو کم تر سمجھ لے گا۔ اس طرح کے شرعی معاملے میں حسن معاشرت کبھی فیصلے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ یہ مزاج یقیناً بڑھتے بڑھتے آخر کار فقہی تشدد اور فرقہ بندی کی صورت اختیار کرلے گا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ امت کے اندر بعد کے زمانے میں جو فقہی تشدد اور مسلکی فرقہ بندی پیدا ہوئی، اس کا سبب خود دین کی تعلیمات میں نہ تھا۔ اس کا سبب تمام تر علمائے متقدمین کی اس اجتہادی غلطی میں تھا کہ انھوں نے غیر ضروری طور پر ایک ایسے معاملے میں تو حد کا اصول اختیار کیا جو کہ دراصل توسع کا معاملہ تھا۔ ایک دینی اختلاف جو در اصل توسع (diversity) کی بنا پر تھا، اس کے معاملے میں انھوں نے تو حد (uniformity) کے اصول کو منطبق کرنا چاہا۔ ان کی یہ کوشش یقینی طور پر غیر فطری تھی، اس بنا پر تو حد کے نام پر کی جانے والی کوشش تشدد کا ذریعہ بن گئی، اور آخر کار امت واحدہ، امت متفرقہ میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔

اس واقعے کی ذمے داری ساری کی ساری فقہائے متقدمین پر ہے۔ اس صورت حال کی اصلاح صرف اس وقت ہو سکتی ہے، جب کہ فقہائے متقدمین کے بارے میں یہ مانا جائے کہ انھوں نے بطورِ خود اختلافی مسائل کے حل کے لیے جو طریقہ اختیار کیا وہ ان کی ایک اجتہادی غلطی تھی، اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ اس غلط روش کو ترک کر دیا جائے۔

اعلان

مولانا وحید الدین خاں صاحب نے بہت سارے لوگوں کو خطوط لکھے یا ان کے خطوط کے جوابات دیے ہیں۔ جن حضرات کے پاس یہ خط موجود ہیں، براہ کرم ان کی فوٹو کاپی یا اصل خط ہمیں ارسال فرمائیں تاکہ ان کو ہم اپنے ریکارڈ میں محفوظ رکھ سکیں، شکریہ۔ تفصیل کے لیے رابطہ قائم کریں: 9999944119

‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues

Printed page