اختلاف ایک آزمائش
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۵، صفحہ ۵۰
اختلاف ایک آزمائش
اختلاف ایک پرچہ امتحان ہے۔ کسی سے آپ کا اختلاف پیدا ہوجائے تو سمجھ لیجیے کہ اللہ نے آپ کو ایک نازک آزمائش میں ڈال دیا تا کہ یہ جانے کہ آپ سچے مومن ہیں یا سچے مومن نہیں۔ اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھنا سچے اہل ایمان کا طریقہ ہے۔ جولوگ اختلاف کو تخریب کاری کے درجے تک پہنچا دیں وہ بلاشبہ ایمان و اسلام کے دائرے سے نکل گئے۔ آدمی جب اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں رکھے تو اس کا امکان ہوتا ہے کہ تبادلہ خیال کے دوران دونوں میں سے کسی کے اوپر سچائی کھل جائے اور اس طرح جو بھٹکے ہوئے مسافر کی مانند تھا وہ دوبارہ صحیح راستہ پر آ جائے۔ مگر جب ایک آدمی اختلاف کو تخریب کاری تک پہنچا دے تو اس کے بعد گمراہی کے گڑھے میں گرنے کے سوا کوئی انجام اس کے لیے باقی نہیں رہتا۔ ایسے آدمی کا دماغ منفی سوچ کا کارخانہ بن جاتا ہے۔ وہ دلیل اور الزام تراشی کے فرق کو سمجھنے کی اہلیت کھو دیتا ہے۔ وہ منصفانہ اختلاف کی حد سے گزر کر ظالمانہ اختلاف کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی پکڑ کے احساس سے غافل ہو جاتا ہے۔ وہ صرف اپنی انا (ego) کو رہنما بنا لیتا ہے۔ اب اس کا مقصد حق کو قائم کرنا نہیں ہوتا بلکہ صرف اپنی ذات کو قائم کرنا اس کا اول و آخر مقصد بن جاتا ہے۔ وہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر پوری طرح شیطان کی گرفت میں آجاتا ہے۔
اختلاف پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ مگر اختلاف کو تخریب کاری بنا نا سراسر ظالمانہ فعل ہے۔ جو لوگ اختلاف کو تخریب کاری بنائیں ان کے لیے سخت خطرہ ہے کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آجائیں۔ عین ممکن ہے کہ آخرت میں ان سے کہہ دیا جائے کہ آج تم نے دنیا کی زندگی میں شیطان کو اپنا رہنما بنایا۔ اب آخرت کی خدائی نعمتوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔
اختلاف کے وقت عدل پر قائم رہنا آدمی کے لیے جنت کا دروازہ کھولتا ہے، اور اختلاف کے وقت عدل و انصاف سے ہٹ جانا آدمی کو جہنم کے دروازے پر پہنچا دیتا ہے۔
(اس شمارے کے اردو مضامین اختلاف رائے کے موضوع پر زیر اشاعت نئی کتاب کے مضامین پر مشتمل ہیں)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2025 All issues