عیدِ اضحی کا سبق
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴
عیدِ اضحی کا سبق
عیدِ اضحی کی قربانی کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے براہ راست تعلق ہے۔ حضرت ابراہیم کی زندگی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب ایک طریقہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو رہا ہو تو اپنے منصوبہ کی ری پلاننگ (re-planning) کرنی چاہیے۔ مثلاً پیغمبر ابراہیم نے اُر (موجودہ عراق) سے اپنے پیغام کا آغاز کیا۔ مگر جب وہاں ان کو کامیابی نہیں ملی، بلکہ آگ میں ڈال دیا گیا تو حضرت ابراہیم نے ایسا بالکل بھی نہیں کیا کہ اس کو ظلم کے خانے میں ڈال کر شکایت کا طریقہ اختیار کریں، بلکہ انھوں نے اپنے عمل کی ری پلاننگ کی، جس کا کلمینیشن (culmination) مکہ کی آبادی، اور پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کا وجود میں آنا تھا۔ عیدِ اضحی دراصل اس بات کا سبق ہے کہ اپنے عمل کی ری پلاننگ کرو۔ کھوئے ہوئے کو ہر قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش نہ کرو، خواہ اس کے لیے قربانی کی سطح پر عمل کرناپڑے۔ کھوئے ہوئے کو دوبارہ اسی نہج پر پانا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے مومن کا کام یہ ہے کہ وہ کوشش میں ناکامی کے بعد حالات کا دوبارہ مطالعہ کرکے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔
ری پلاننگ فطرت کا ایک عام اصول ہے۔ وہ ہر معاملے میں قابلِ انطباق ہے۔ خواہ وہ معاملہ مذہبی ہو یا سیکولر۔ انسان کو ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ جو طریقہ کار مؤثر ثابت نہ ہو، اُسی کو بار بار آزماتا رہے۔ اس کے بجائے، اسے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرنی چاہیے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔ درخت کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ اگر کسی شاخ کو بڑھنے سے کوئی چیز روکتی ہے تو وہ اپنا رخ بدل کر آگے بڑھنے لگتی ہے۔ ٹریفک کا بھی عام اصول یہی ہے کہ جب ڈرائیور دیکھتا ہے کہ آگے راستہ بند ہے تو وہ راستہ بدل کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نتیجہ خیز عمل کا موقع ختم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم دیا۔ اور پھر آہستہ آہستہ ساری دنیا میں اسلام کے لیے راستہ کھل گیا۔ اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ نے اشارہ کیا ہے: مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، وہ تمام بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اُس کو یثرب کہتے ہیں، لیکن وہ مدینہ ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1748)۔