پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۵
پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَى الرِّفْقِ مَا لَا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ، وَمَا لَا يُعْطِي عَلَى مَا سِوَاهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2593)۔ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: بیشک اللہ نرم ہے، اور نرمی کو پسند کرتا ہے، اور نرمی پر وہ سب عطا کرتا ہے، جو وہ سختی پر عطا نہیں کرتا، اور نہ اس کے علاوہ کسی اور چیز پر عطا کرتا ہے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: وَيَرْضَاهُ، وَيُعِينُ عَلَيْهِ مَا لَا يُعِينُ عَلَى الْعُنْفِ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 852)۔ یعنی اللہ تعالیٰ نرمی سے راضی ہوتا ہے، اور نرمی پر وہ جس طرح مدد کرتا ہے، ایسی مدد وہ سختی پر نہیں کرتا۔
یہ حدیث طریق کار کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مدد ہمیشہ پرامن طریق کار پر آتی ہے۔ متشددانہ طریق کار پر اللہ کی مدد نہیں آتی ہے۔ مزید غور وفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان پر امن انداز میں اپنا کام کرتا ہے، تو فطرت کے قوانین انسان کے موافق بن جاتے ہیں۔ انسان کو اپنے کام میں فرشتوں کی مدد حاصل ہوجاتی ہے۔ جب کہ مسلح طریق کار میں ایسا نہیں ہوتا۔ مسلح طریقہ ہمیشہ ری ایکشن پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، پر امن طریق کار ری ایکشن کا خاتمہ کردیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نرمی کو پسند کرتا ہے، وہ سختی کو پسند نہیں کرتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ نرمی یا پر امن طریق کار اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ حل ہوتا ہے۔ جب کہ تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ ہمیشہ بڑھ جاتا ہے۔ پیس فل طریق کار اختیار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا ہوئے بغیر مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس، تشدد کا طریقہ اختیار کرنے کی صورت میں مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ البتہ نئے نئے مسائل پیدا ہوکر مقصد کے حصول کو اور زیادہ مشکل بنادیتے ہیں۔