کیا اسلام میں عورتوں کو مارنے کی اجازت ہے
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۵
اسلام میں عورت عورت نصف انسانیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ آپ نے اس مسئلہ کا جواب عورت اور مرد کے تعلق سے ایک اہم اسلامی اصول یہ بیان کیا: عورتیں بلا شبہ مردوں کا شقیقہ ہیں (اِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ) سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 236، سنن الترمذی، حدیث نمبر 113۔ شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے دردِ شقیقہ بولا جاتا ہے۔ یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصہ میں ہو۔ اوپر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔ یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں ایک گل کے دو برابر برابر اجزاء ہیں، اس گل کا آدھا عورت ہے اور اُس کا آدھا مرد۔ قاضی ابوبکر ابن العربی المالکی (وفات 543ھ) نے اس حدیث کی شرح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: أَنَّ الخِلْقَةَ فيهم واحِدَةٌ، والحكم فيهم بالشَّرِيعَة سواء (المسالک في شرح موطّا مالک، جلد 2، صفحہ 216)۔ یعنی ان دونوں کی تخلیق ایک ہے، ان کے بارے میں شریعت کا حکم برابر ہے۔ بدرالدین العینی (وفات 855 ھ) نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: وَالْمَعْنَى أَنَّ النِّسَاءَ نَظَائِرُ الرجل وأمثالهم في الْأَخْلَاق والطباع كأنهن شُققنَ مِنْهُمْ (عمدة القاری شرح صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 235)۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں مردوں کے ہم رتبہ اور ان کی مانند ہیں، اپنے اخلاق اور پیدائش کے اعتبار سے، گویا وہ ان سے ٹکڑے ہو کر الگ ہوئی ہوں۔
دوسرے الفاظ میں، عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (supplement) ہیں۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصف انسانیت کا لقب دیا جائے۔
کیا اسلام میں عورتوں کو مارنے کی اجازت ہے
یہ غلط فہمی سورہ النساء کی آیت نمبر 34 کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر اس آیت میں عورتوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues