Al-Risala · January 2025 · page 16

قُوَّام کا مطلب کیا ہے

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۶

مارنے کی اجازت نہیں ہے، یہ تنبیہ کی زبان ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بیک وقت 9 خواتین تھیں۔ سوال یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان خواتین کو مارا؟ یہ ثابت ہے کہ ان خواتین سے رسول اللہ کو بعض امور میں نزاع ہوئی، لیکن رسول اللہ نے کسی خاتون کو کبھی نہیں مارا۔ اس کے برعکس، رسول اللہ برابر اپنے اصحاب کو اس قسم کی نصیحت کرتے تھے: اِنَّ اَکْمَلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا، وَاَلْطَفُھُمْ بِاَھْلِہِ (مسند احمد، حدیث نمبر 24677)- یعنی بے شک ایمان کے اعتبار سے مکمل مومن وہ ہے، جو ان میں اخلاق میں سب سے اچھا ہو، اور اپنی بیوی کے ساتھ سب سے نرم ہو۔

قُوَّام کا مطلب کیا ہے

قرآن کی سورہ النساء کی آیت میں آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (4:34)۔ یعنی مرد عورتوں کے اوپر قُوَّام ہیں۔ قُوَّام کے معنیٰ عربی زبان میں نگراں اور منتظم کے ہیں۔ ”مرد قوام ہیں“ کا مطلب یہ نہیں کہ مرد افضل مخلوق ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت غیر افضل مخلوق۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ خاندانی معاملات کے انتظام یا بندوبست کے لیے خالق نے یہ فطری اصول مقرر کیا ہے کہ گھر کے داخلی مجموعہ میں مرد منتظم کی ذمہ داری کو سنبھالے تا کہ خاندان کا نظام اسی طرح درست طور پر چل سکے جس طرح بقیہ کائنات کا نظام اسی اصول تنظیم کو اختیار کر کے درست طور پر چل رہا ہے۔ آج کے الفاظ میں قُوَّام کا مطلب بیان کیا جائے تو وہ لفظ باس (boss) ہے۔ ہر ادارہ اور ہر دفتر کو منظم طور پر چلانے کے لیے ایک باس ہوتا ہے۔ کارکن خواتین اپنے دفتروں میں باس کو پوری طرح تسلیم کرتی ہیں۔ اسلام نے گھر کے لیے مرد کو باس کی حیثیت دی ہے:

Bossism is a universal principle, and the home is no exception. یہ انتظامی امور کا معاملہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ ذمہ داری کی بات ہے، نہ کہ افضلیت کا معاملہ۔ یعنی گھر یلو امور میں مرد پر زیادہ ذمہ داری ہے۔ ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی استثنا ہے۔ کوئی عورت اگر اپنے گھر میں مرد سے زیادہ سمجھدار ہو، تو وہ بھی اپنے گھر میں قوام کی ذمہ داری نبھا سکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page