خدا کو پانا
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۶
خدا کا ادراک کرے ۔ بخدا وہ آنکھ بے نور ہے جس کو خدا دکھائی نہیں دیتا۔ وہ انسان بے دماغ ہے جو یہ کہتا ہے کہ اس نے خدا کو نہیں پایا، یا یہ کہ خدا کو پایا نہیں جاسکتا۔ خدا بلا شبہ اتنا بڑا ہے کہ وہ ہمارے مشاہدہ میں نہیں سماتا۔ مگر بلا شبہ وہ تمام چیزوں سے زیادہ ہم سے قریب ہے۔ موجودہ دنیا میں، ہم خدا کو اس کی ذات میں نہیں دیکھ سکتے۔ مگر خدا کو اس کی صفات میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں اور ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دنیا میں یہی خدا کو دیکھنا ہے، یہی خدا کو پانا ہے۔ کار کو کار خانہ کا انجینئر بناتا ہے۔ انجینئر کار میں ہر وقت بیٹھا ہوا نہیں ہوتا۔ مگر جس شخص نے کار میں صرف کار کو دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ کار کو دیکھنے والا وہ ہے جو کار کو دیکھتے ہی اس کے انجینئر کو بھی دیکھ لے۔ اسی طرح انسان خدا کو بھی دیکھ سکتا ہے۔ اگر آپ نے سورج میں صرف سورج کو دیکھا تو آپ نے کچھ نہیں دیکھا۔ سورج کو دیکھنے والا وہ ہے جس نے سورج میں خدا کے روشن چہرہ کو دیکھ لیا ہو۔ جس نے پہاڑ میں صرف پہاڑ کو دیکھا اس نے کچھ نہیں دیکھا۔ پہاڑ کو دیکھنے والا وہ ہے جس نے پہاڑ میں خدا کی عظمتوں کو پالیا ہو۔ خدا کوئی دور کی چیز نہیں۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں ظاہر ہوا ہے ۔ وہ چڑیوں کے چہچہے میں بول رہا ہے۔ وہ پھولوں کی لطافت میں مسکرا رہا ہے ۔ وہ ہواؤں کے جھونکے میں آپ کو چھورہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا ہر طرف اور ہر جگہ ہے۔ وہ ہم سے بالکل الگ ہے، اسی کے ساتھ وہ ہم سے انتہائی قریب ہے۔ پھر بھی جو انسان خدا کو نہ دیکھے وہ اندھا ہے۔ اس کے باوجود جو انسان خدا کو نہ پائے وہ محرومی کی اس انتہا پر ہے جس کے آگے محرومی کا کوئی درجہ نہیں۔ خدا کو پانا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو پانا۔ کون ہے جو اپنے آپ کو پائے ہوئے نہ ہو۔ اس لیے کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہو سکتا جو خدا کو پانا چاہے پھر بھی وہ اس کو نہ پا سکے۔ جو شخص اپنی آنکھیں بند کرلے وہ سورج کو نہیں دیکھ سکتا۔ ایسے شخص کے چاروں طرف سورج اپنی بے پناہ روشنی کے ساتھ موجود ہوگا مگر وہ سورج کو نہیں دیکھے گا۔ اسی طرح خدا ہر لمحہ آدمی کے چاروں طرف موجود ہے۔ مگر جس شخص نے اپنی بصیرت کو دھندلا کر چکا ہو وہ کبھی خدا کو دیکھنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ (تقریر بمقام بھوپال ، 19 اپریل 1986)