Al-Risala · May 2025 · page 15

خدا کو پانا

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۵

خدا کو پانا

اس وقت میری گفتگو کا موضوع خدا اور خدا کی وحدت ہے۔ یہ موضوع بلا شبہ میرا سب سے زیادہ پسندیدہ موضوع ہے۔ زمین و آسمان گواہ ہیں کہ میں سب سے زیادہ توحید کے موضوع پر سوچتا ہوں۔ میں سب سے زیادہ خدا کی باتوں میں گم رہتا ہوں۔

مگر قرآن میں آیا ہے کہ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (8:2)۔ یعنی، جب اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں۔ اور فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقاً (7:143)۔ یعنی، جب اللہ نے پہاڑ پر اپنی تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ خدا تو وہ ہے جہاں زبانیں بند ہو جاتی ہیں، پھر خدا کے بارے میں بولا جائے تو کیا بولا جائے ۔ خدا تو وہ ہے جس کے سامنے آتے ہی نگاہیں خیرہ ہو جاتی ہیں۔ پھر اس کے مشاہدہ کو بیان کیا جائے تو کس طرح بیان کیا جائے ۔ خدا تو وہ ہے کہ جب وہ تجلی کرتا ہے تو جہاں وہ اپنی تجلی کرتا ہے اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے (الاعراف، 7:143)، پھر کہاں سے وہ دل لایا جائے جو خدا جیسی ہستی کا چرچا کر سکے۔ خدا میرے لیے صرف ایک رسمی عقیدہ نہیں، خدا میری دریافت ہے۔ (احسان کے درجہ میں) خدا کو میں نے دیکھا ہے۔ خدا کو میں نے چھوا ہے۔ بخدا میری مثال صحرائے سینا کے اس پہاڑ کی ہے جس پر خدا اترا اور اس نے اس کی ہستی کے ریزے ریزے کر دیے۔ ایسے ایک انسان کے لیے خدا پر بولنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایسے ایک انسان کے لیے خدا کی حمد اور تعریف کرنی عام تقریروں کی طرح صرف ایک تقریر کر دینے کی بات نہیں۔

غالباً 25 سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت میں اعظم گڑھ (یوپی) میں تھا۔ وہاں ایک صاحب (شاہ نصیر احمد) نے مجھ سے پوچھا: ”کیا انسان خدا کو دیکھ سکتا ہے“۔ میری زبان سے فوراً یہ الفاظ نکلے: ”کیا آپ نے ابھی تک خدا کو نہیں دیکھا“۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا سورج اور چاند سے زیادہ نمایاں ہے۔ یہ آنکھ اسی لیے دی گئی ہے کہ وہ خدا کو دیکھے۔ یہ دماغ اسی لیے دیا گیا ہے کہ وہ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page