اسلامی سرگرمی
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۸
اسلامی سرگرمی
کچھ مسلمان اگر اسلام کے نام پر جمع ہوتے ہوں، یا اسلام کے نام پر کچھ سرگرمی دکھارہے ہوں، تو یہی ان کے لیے اسلام پر قائم ہونے کی کافی علامت فہمیں ہے۔ اس قسم کی سرگرمی (activity) لوگوں کو ایک ملی تسکین دے سکتی ہے، لیکن وہ اسلام کے مقصد پر قائم ہونے کے لیے کافی نہیں۔
اسلام کے نام پر سرگرمی وہ ہے جو ایک با مقصد سرگرمی ہو۔ مثلاً اسلام کے نام پر آپ کسی جگہ جمع ہو جائیں، اور اسلام کے نام پر تقریریں سنیں، تو اس سے آپ کو ربانی ٹیک اوے (takeaway) ملنا چاہیے (الانفال ، 8:2)۔ جس تقریر یا تحریر سے آپ کو ربانی ٹیک اوے نہ ملے، وہ اسلام کی سرگرمی نہیں تھی، بلکہ کسی اور مقصد کے تحت کی گئی سرگرمی تھی، جس کو آپ نے غلطی سے اسلام کی سرگرمی سمجھ لیا۔ اسلام کی سرگرمی وہ ہے، جو شر کاء کو متعین مقصد حیات دے۔ جس سے لوگوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہو۔ جس سے لوگ لوٹیں تو وہ اللہ کی یاد اور آخرت کی فکر کا جذبہ لے کر لوٹیں ۔ ان کے اندر تمام انسانوں کی خیر خواہی کا جذبہ بیدار ہو جائے۔ اسلام کے نام پر ایسی سرگرمی جو خدا اور آخرت کے ذکر سے خالی ہو، وہ کچھ اور ہو سکتی ہے، لیکن وہ حقیقی معنوں میں اسلامی سرگرمی نہیں۔ ہر چیز کو جانچنے کا ایک معیار (criterion) ہوتا ہے۔ اسلام کے نام پر کی گئی سرگرمی کا معیار یہ ہے کہ اس سے خدا کا تعلق بڑھے، اور آخرت رخی اسپرٹ بیدار ہو۔ جو سرگرمی اسلام کے نام پر کی گئی ہو، لیکن جو لوگ اس میں شرکت کر کے واپس لوٹیں، اور ان کے پاس مذکورہ قسم کا ٹیک اوے نہ ہو، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی اور سرگرمی تھی، جس کو انھوں نے غلط نہی سے اسلامی سرگرمی سمجھ لیا۔ اسلامی تقریر یا اسلامی تحریر وہ ہے، جس سے لوگوں میں خدا اور آخرت کی اسپرٹ بیدار ہو، جس سے لوگوں میں جنت کا شوق بڑھے، اور وہ آخرت کی پکڑ کے بارے میں زیادہ حساس ہو جائیں۔ جو لوگوں کے لیے خدا اور آخرت کی غذا دینے والا ثابت ہو۔