خدا کی رحمت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۹
خدا کی رحمت
بارش کے موسم میں بارش نہ ہو تو کسان پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ بارش ہی کے اوپر کھیتی کا دارو مدار ہے۔ بارش سے کھیتوں میں فصل اگتی ہے اور سال بھر کی روزی حاصل ہوتی ہے۔ بارش نہ ہو تو کسانوں کے کھیت ویران ہو جائیں، ہم کو اپنی خوراک کے لیے غلہ نہ ملے۔ اسی طرح ایک اور بارش ہے۔ یہ اللہ کا وہ فضل ہے جس سے نیک عمل کی توفیق حاصل ہوتی ہے، جس سے ہمارے ایمان کی زمین پر اسلامی کردار کی کھیتیاں اگتی ہیں۔ اللہ کی توفیق نہ ملے تو ہمارے ایمان کی زمین سوکھی پڑی رہ جائے اور اس سے نیک اعمال کی وہ فصل نہ آگے گی، جو جنت کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ توفیق کی اہمیت اسلامی کردار پیدا کرنے میں اسی طرح ہے جیسے بارش کی اہمیت کھیتوں میں فصل اگانے کے لیے۔
جب بادلوں والی بارش رکتی ہے تو کسان بے حد پریشان ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب عمل کی توفیق والی بارش رکے تو مومن بندہ کو بے چین ہو جانا چاہیے۔ اس کو اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ کیوں اس کے اوپر توفیق الہی کی بارش رک گئی۔ ایسا کیوں ہے کہ اس کے اندر وہ جذبات نہیں امنڈ رہے ہیں جو اللہ کے پسندیدہ اعمال کا محرک بنتے ہیں۔
جب آپ کو ایک اچھی نماز پڑھنے کی سعادت ملتی ہے تو در حقیقت وہ رحمت الہی کی بارش کی ایک بوند ہوتی ہے جو آپ کے اوپر ٹپکتی ہے۔ جب آپ کو خالص اللہ کی خاطر روزہ رکھنا اور حج کرنا نصیب ہوتا ہے، جب آپ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی خوشی حاصل کرتے ہیں تو یہ سب بھی اللہ کی اسی بارش کی چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کو اللہ کی توفیق سے پہنچتے ہیں۔ اسی طرح جب اللہ کی یاد سے آپ کا دل سرشار ہواٹھتا ہے، جب آپ کی آنکھیں اللہ کی راہ میں رونے کی توفیق پاتی ہیں، جب آپ کی زندگی میں درد کے وہ لمحات آتے ہیں جو آپ کو اللہ کے خوف و محبت سے تڑپا دینے والے ہوں تو یہ سب بھی اسی ان دیکھی بارش کا فضل ہوتا ہے، جو اللہ کی طرف سے آپ کے اوپر برستا ہے۔ جب آپ اپنے بھائی کی کوئی خدمت کرتے ہیں،