اتحاد کی نفسیات
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۳
اتحاد کی نفسیات
اتحاد واتفاق کسی بڑے کام کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ مگر اتحاد کبھی مطلق معنوں میں پیدا نہیں ہوتا۔ یعنی یہ کہ ٹیم یا گروپ کے تمام افراد کی سوچ ہو، اور اس بنا پر ان کے اندر اتحاد قائم ہوجائے۔ فطرت کے قانون کے مطابق ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اتحاد ہمیشہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، نہ کہ مطلق وزڈم (absolute wisdom) کی بنیاد پر۔ اصل یہ ہے کہ اتحاد کبھی اتفاق رائے کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتا، بلکہ اتحاد اس وقت قائم ہوتا ہے، جب کہ لوگوں کے سامنے ایک مشترک نشانہ (goal) ہو، اور اس مشترک نشانے کے حصول کے لیے مختلف لوگ اپنی ذاتی آرا کو الگ رکھ کر مشترک نشانے کی بنیاد پر عملاً متحد ہو جائیں۔ یعنی اختلاف رائے کے باوجود مشترک نشانے کی خاطر لوگوں کا عملاً متحد ہو جانا۔
ہر انسان ایک مستقل شخصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر انسان کا زاویہ نظر (angle of vision) الگ الگ ہوتا ہے۔ اس لیے اجتماعی جدوجہد میں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا کہ افراد کے درمیان کلی طور پر آرا کا اتحاد ہو جائے۔ بلکہ لوگوں کے درمیان اتحاد اس سوچ کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ کسی عظیم مقصد کے لیے اجتماعی کوشش کی جائے۔ یہ اس وقت ممکن ہے جب کہ لوگ انفرادی سطح پر اپنی آرا کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھیں، اور اجتماعی جدوجہد کے معاملے میں سب مل کر ایک ایک نشانے کے لیے کوشش کریں۔ عملی معنوں میں اسی کا نام اتحاد ہے۔ یہی طریقہ ممکن ہے، اور یہی طریقہ فطرت کے قانون کے مطابق ہے۔
ایک روایتی قصہ میں بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص کے کئی بیٹے تھے۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا، اور ان کو ایک بٹی ہوئی رسی دی کہ اس کو توڑو۔ لڑکے اس رسی کو توڑ نہیں پائے۔ پھر اس نے رسی کو کھول دیا، اور ہر بیٹے کو رسی کی ایک ایک لڑی دی۔ اب ہر ایک نے آسانی سے اس کو توڑ دیا۔ اس کے بعد باپ نے کہا کہ دیکھو، اگر تم متحد رہو گے تو کوئی تم کو توڑ نہیں پائے گا، لیکن اگر تم الگ ہو جاؤ تو کوئی بھی شخص تم کو آسانی سے توڑ ڈالے گا۔