خدا کی رحمت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۲
ہوتا ہے۔ اس قسم کے ”دین“ کی طرف لپکنا اور نفس کو دبانے اور جذبات کی قربانی دینے والے دین سے بے پروا ہونا دینداری کی حالت نہیں بلکہ غفلت کی حالت ہے۔
اگر آپ کا یہ حال ہو کہ آپ انہی دینی کاموں کی طرف دوڑتے ہوں جن میں دنیاوی نفع ملنے والا ہو، جن میں شہرت اور عزت کی چاشنی ہو، جن میں آپ کی عوامی تصویر میں اضافہ ہوتا ہو، جن میں آپ اپنے کو نمایاں کرنے کے مواقع پارہے ہوں، جن میں عمل کی قیمت دنیاوی صورت میں وصول ہوتی ہو، جن میں دینی کام کی قیمت پذیرائی کی صورت میں مل رہی ہو۔ آپ دنیاوی پہلو رکھنے والے دینی کام میں تو خوب تیزی دکھائیں اور جس دینی کام میں کوئی دنیاوی چاشنی نہ ہو، اس سے بے رغبت رہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ خدا کی توفیق میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ کیونکہ دولت اور عزت والے دین کی طرف دوڑنادین کے نام پر اپنے نفس کی طرف دوڑنا ہے، نہ کہ حقیقتاً خدا کے دین کی طرف دوڑنا۔ ان تمام حالتوں میں آپ کو مطمئن ہونے کا موقع نہیں۔ آپ کو بے تاب ہو کر خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ آپ کو خدا کی بارش رحمت کو اپنی طرف مائل کرنا چاہیے، قبل اس کے کہ آپ کا سوکھا ہوا پودا خدا کے باغ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے۔
* * * * * * *
جنت میں اہل جنت کا ایک مشغلہ یہ ہوگا کہ وہ کلمات اللہ کا مطالعہ کریں، وہ کلمات اللہ کو دریافت کریں، اور پھر کلمات اللہ کو قلم بند کریں۔ یہ ربانی انسان کون ہوں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو دنیا کے اندر قرآن کے الفاظ میں آلاء اللہ (7:69) اور کلمات اللہ (18:109) کی سوچ میں جینے والے ہوں۔ ایسے لوگوں کو یکجا کر کے جو دنیا بنے گی، اسی کا نام جنت ہے۔ وہ ایک نیا دور تہذیب (age of civilization) ہوگا ۔ یہاں کی ہر چیز اعلیٰ معیار کی ہوگی ۔ یہاں کی سوسائٹی اعلیٰ سوسائٹی ہوگی۔ یہاں ربانی معرفت کی ان فولڈنگ کے اعلیٰ ادارے ہوں گے۔