فہم قرآن کی کلید
الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۱۷
فہم قرآن کی کلید
قرآن کو سمجھنے کا اصول کیا ہے؟ اس کا ایک واضح اصول ہونا چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ اصول خود قرآن سے براہِ راست طور پر بذریعہ نص (text) سے معلوم ہونا چاہیے، نہ کہ کسی قیاسی یا استنباطی نکتہ سے۔ یعنی یہ اصول ایسا ہونا چاہیے، جو قرآن میں نص صریح کی زبان میں موجود ہو۔ اس سے کم درجے کا کوئی استدلال اس معاملے میں قابلِ قبول نہیں۔ اس سلسلے میں دو کھلی کھلی آیتیں موجود ہیں، جو یہ بتاتی ہیں کہ قرآن کو سمجھنے کا اصول کیا ہونا چاہیے۔ اور کس اصول کی روشنی میں ہم کو قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن کے مطابق، وہی اصول فہم قرآن کے لیے کلیدی اصول ہو سکتے ہیں، جو سب سے پہلے قرآن سے براہِ راست معلوم ہوں۔
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ نظم قرآن فہم قرآن کی کلید ہے۔ لیکن اس کے لیے براہِ راست کوئی دلیل موجود نہیں۔ یہ بات کہ نظم قرآن کا اصول فہم قرآن کی کلید ہے‘ زیادہ سے زیادہ ایک نکتہ ہے، وہ ہرگز فہم قرآن کی کلید نہیں۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے بنیادی اصول تدبر ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے، تا کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ قرآن میں تدبر کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے قرآن کے ثابت شدہ دلائل کی روشنی میں قرآن پر غور کرنا۔ اسی طرح قرآن کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے دوسرا بنیادی اصول تقویٰ ہے، یعنی اللہ کی پکڑ کا خوف۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282)۔ یعنی اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، اللہ تم کو سکھائے گا۔
اگر قرآن کا مطالعہ کرنے کے لیے تدبر اور تقویٰ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو قرآن اپنے قاری کے اندر فرقان کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ قاری کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ کسی چیز کے دو پہلوؤں کے درمیان فرق کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں، کسی انسان کے لیے قرآن کے گہرے فہم کا حصول صرف تقویٰ پلس تدبر کے ذریعے ممکن ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues