ضمیر یعنی سینسر
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۱
ضمیر یعنی سینسر
دورِ جدید کا ایک ظاہر ہ یہ ہے کہ ہم آٹومیٹک سسٹم کے درمیان رہتے ہیں۔ یہ آٹومیٹک سسٹم سینسر کے ذریعہ کام کرتا ہے۔ جیسے ہماری موجودگی کا پتا لگا کر دروازہ کھولنا، دھواں یا آگ کا پتا لگا کر سائرن بجانا، گیراج کے دروازوں کو اس وقت کھولنا جب گاڑی دروازے کے قریب ہو۔ یہ سب اور اس کے علاوہ دیگر بہت سے آٹومیٹک کام سینسروں کی وجہ سے ممکن ہوتے ہیں۔ آپ اپنے گھر، دفتر اور کاروبار وغیرہ میں مختلف قسم کے سینسرز کا استعمال کر سکتے ہیں جو ہماری زندگی کو آسان بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ سینسر کیا ہے۔ یہ ایک آلہ ہے، جو کسی جسمانی حرکت کو پہچان کر اس کے مطابق نتیجہ ظاہر کرتا ہے: A sensor is a device that detects changes in its environment and sends information about those changes to another device or system. A sensor is like a sense organ — just as your skin feels heat or cold, a sensor "feels" or senses things like temperature, light, movement, sound, or pressure. انسانی جسم پر غور کیا جائے تو انسانی جسم میں بھی سینسرز لگے ہوئے ہیں، جو آپ کے جسم کے اندر اور باہر جاری ایک ایک حرکت کو محسوس کرکے اس کی خبر آپ کے دماغ تک پہنچاتے ہیں، جس بنا پر آپ ان کو جان پاتے ہیں۔ عرف عام میں ان کو حواس خمسہ کہا جاتا ہے۔ ان کے نام یہ ہیں: باصرہ (sight)، سامعہ (sound)، شامہ (smell)، ذائقہ (taste) اور لامسہ (touch) اگر یہ حواس خمسہ نہ ہوں تو انسان کو بے شمار قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ ایک خاتون کا مجھے علم ہے۔ ان کی قوت شامہ (sense of smell) ختم ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پریشان رہتی تھیں۔ کچن میں کھانا جل جائے یا کہیں آگ لگ جائے تو ان کو اس کا بالکل علم نہیں ہو پاتا تھا۔ لیکن اللہ تعالی نے انسان کے جسم میں ایک اور سینسر رکھا ہے، یعنی اچھائی اور برائی کو پہچاننے کا سینسر۔ اس سینسر کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ غالباً اسی ضمیر کو قرآن میں نفس لوامہ کہا گیا ہے (75:2)۔ ضمیر انسان کے لیے خدائی گائیڈ ہے۔ وہ ہر موقع پر انسان کو الارم دیتا ہے کہ وہ