Al-Risala · May 2025 · page 34

جمعہ کا دن

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۴

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ * فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللَّهُ خَيْرُ الرَّازِقِينَ (62:9-11)۔ یعنی، اے ایمان والو، جب جمعہ کے دن کی نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کی یاد کی طرف چل پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔ اور جب وہ کوئی تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ اور تم کو کھڑا ہوا چھوڑ دیتے ہیں، کہو کہ جو اللہ کے پاس ہے، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے، اور اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔

حدیث میں جمعہ کی نماز کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص ایسا کرے کہ وہ مسجد میں داخل ہونے کے بعد لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اگلی صف میں جانے کی کوشش کرے تو وہ بہت گناہ کا کام کرتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ! تم لوگوں کو اذیت دے رہے ہو، حالاں کہ تم دیر سے آئے ہو (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 1115)۔ اسی طرح اہل ایمان کو چاہیے کہ سماج میں رہتے ہوئے دوسرے پر ظلم کر کے اپنا فائدہ حاصل نہ کرے۔ اہلِ ایمان سماج میں نو پرابلم بن کر زندگی گزاریں، دوسرے کو ہرگز تکلیف نہ دیں۔

جمعہ کا دن ان چیزوں کو مشترک طور پر سیکھنے کا دن ہے جس کو دوسرے دنوں میں آدمی غیر مشترک طور پر سیکھتا ہے۔ جمعہ کا دن اس عمل کو مل کر کرنے کا دن ہے جس کو وہ دوسرے دنوں میں اکیلے اکیلے کرتا ہے۔ دوسرے دن اگر انفرادیت کے دن ہیں تو جمعہ کا دن اجتماعیت کا دن۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page