Al-Risala · May 2025 · page 36

جدید انسان کی تلاش

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۶

یہ ذہن جس کی نمائندگی اس کتاب میں کی گئی ہے ایک ایسے آدمی کی بے چینی کی طرح ہے جس خود اپنی بے چینی کا سبب معلوم نہ ہو۔ امریکی نوجوان مادی تہذیب سے، جس کی آخری نمائندگی مارکس نے کی، مکمل طور پر غیر مطمئن ہو چکا ہے۔ وہ دوبارہ اس ’’ماضی‘‘ کو دیکھنے لگا ہے جس کو اس کے باپ دادا نے چھوڑ دیا تھا۔ مگر یہاں ’’ماضی‘‘ کی نمائندگی کرنے والی جو چیز ملتی ہے وہ عیسائیت ہے۔ عیسائیت اپنے موجودہ ڈھانچے کے ساتھ خالص علمی و عقلی ذہن کو اپیل نہیں کرتی۔ اس لیے وہ ’’مارکس‘‘ کے ساتھ ’’مسیح‘‘ کا بھی باغی ہو جاتا ہے۔ تاہم جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بغاوت کے بعد وہ جس چیز کا طالب ہے، وہ اس کے اپنے الفاظ میں وہی چیز ہے جس کا جواب صرف مذہب کے اندر ہے تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مجہول احساس کے ساتھ اسی چیز کی تلاش میں ہے جسے کو مذہب کہتے ہیں۔ مصنف نے اپنی کتاب کا نام ’’نہ مارکس نہ مسیح‘‘ رکھا ہے۔ مگر باعتبارِ حقیقت اس کا نام ہونا چاہیے تھا ’’نہ مارکس نہ مروجہ عیسائیت‘‘۔

میڈالین ایم اوہیئر (Madalyn Murray O'Hair, 1919-1995) امریکہ کی مشہور ترین ملحد خاتون ہیں۔ وہ کھلم کھلا اپنے الحاد کی تبلیغ کرتی ہیں۔ پکے خدا پرست والدین کی یہ بیٹی اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہے: ’’مجھے ان کے اعتقادات کا علم تھا اور احترام بھی کرتی تھی_ مگر 13 سال کی عمر میں اتوار کا پورا دن انجیل پڑھتے رہنے کے بعد میں اس کی یکسر خلاف عقل باتوں سے متنفر ہوگئی۔ ‘‘ انسان مذہب کی طرف لوٹنا چاہتا ہے مگر مذہب کی غلط نمائندگی اس کو دوبارہ مذہب سے دور لے جا رہی ہے۔ یہ ہے دورِ جدید کا سب سے بڑا المیہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page