Al-Risala · May 2025 · page 37

ذکر اللہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۷

ذکر اللہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے ایک صحابی معاذ بن جبل کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: اذكُرِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَعِنْدَ كُلِّ شَجَر (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 374)۔ یعنی اللہ رب العالمین کو یاد کرو، ہر پتھر کے پاس اور ہر درخت کے پاس۔ اس حدیث میں پتھر اور درخت کا ذکر بطور تمثیل ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں خالق کی نشانی ہے، اس کے ذریعہ خالق کی دریافت کرو، اور اس کی معرفت حاصل کرو۔ یہاں ذکر اللہ سے مراد اللہ کا لفظی ورد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد اللہ کی شعوری یاد (conscious remembrance of God) ہے۔ یہ یاد شعوری انداز میں ہر وقت مطلوب ہے۔ یہ شعوری یاد کسی قسم کے روٹین کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ حقیقت کی دریافت کے نتیجے میں ذہن انسانی میں خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک زندہ اور تخلیقی سوچ ہے۔

اعلیٰ ذکر کسی انسان کے اندر اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ وہ گہرے غور و فکر کے ذریعہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ یہ دریافت اتنی کامل ہو کہ وہ اس کی سوچ پر غالب آجائے، اس کی شخصیت اسی دریافت میں ڈھل جائے۔ وہ اس کے صبح و شام کا ناگزیر اثاثہ بن جائے۔ جدید سائنسی ڈسکوری نے بذریعہ تخلیق خالق کی دریافت کو بے انتہا حد تک وسیع کر دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کے سائنسی مطالعہ کا مقصد صرف ٹیکنکل ترقی نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا ایک اور مقصد ہے، اور وہ ہے تخلیقات میں خالق کو دریافت کرنا۔ تخلیقات کا گہرا مطالعہ کر کے زندگی کے راز کو معلوم کرنا۔ مادی کائنات کی تحقیق کر کے یہ جاننا کہ اس کے نقشہ کے مطابق، انسانی ترقی کا قانون کیا ہے۔ چنانچہ انسان جب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس میں ایک طرف خالق کی تجلیات کو پالیتا ہے اور دوسری طرف اس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کی کامیاب تعمیر کن خطوط پر کرنا چاہیے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page