ایک سوال
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۸
خير مطلق کے طور پر پیش کیا گیا تھا، ان کو دیکھ کر وہ بگڑ گئیں۔ حتیٰ کہ اندیشہ ہوا کہ شاید وہ نظرثانی کا کام ہی چھوڑ دیں۔ تاہم کام جاری رہا اور ان کے کہنے کے مطابق معاوضہ کی شرح بھی بڑھاتی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ تیسرا سال آگیا۔ اور فریدہ نے مذہب اور جدید چیلنج کا انگریزی ترجمہ کرکے انہیں نظرثانی کرنے کے لیے دیا۔ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد ان کے ذہن میں واضح طور پر فرق محسوس ہورہا ہے۔ اب نہ صرف یہ کہ ان کی شدت ختم ہوگئی ہے، بلکہ خدا پر ان کا عقیدہ بحال ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب وہ پہلے سے زیادہ ہمارے کاموں کے لیے sympathetic ہو گئی ہیں۔ یہ ایک مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر مسلسل کام کیا جائے تو سخت سے سخت آدمی کو بھی متاثر کیا جاسکتا ہے۔
ایک سوال
أُكُفَّارُكُمْ خَيْرٌمِنْ أُوْلَئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ (54:43) - یعنی ، کیا تمہارے منکران لوگوں سے بہتر ہیں یا تمہارے لیے آسمانی کتابوں میں معافی لکھ دی گئی ہے۔ اس میں کس چیز کی براءۃ کی طرف اشارہ ہے۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
جواب
قرآن کی اس آیت میں وقتی ریفرنس کے اعتبار سے قدیم مکہ کے قریش کو خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی گئی ہے۔ مگر ابدی اصول کے اعتبار سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی گروہ مستثنی گروہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ ہر ایک کا معاملہ یکساں ہے۔ یعنی ہر ایک کو ایک ہی معیار پر جانچا جائے گا۔ ہر ایک سے ایک ہی اصول کی روشنی میں معاملہ کیا جائے گا۔ نہ پیدائشی اعتبار سے کسی کا معاملہ دوسروں سے مختلف ہے، اور نہ ایسا ہے کہ قرآن کے سوا جو دوسری آسمانی کتابیں اللہ نے اتاری ہیں، ان میں کسی گروہ کے بارے میں یہ اعلان ہے کہ ان کا کیس ایک مستثنیٰ کیس ہے۔ وہ بھی خدا کے مواخذہ کے قانون کے تحت ہیں، جس طرح دوسرے تمام لوگ ہیں۔